My Bookmarks
Surah:
Para:
Ruku:
Arabic
Urdu
English
(75)قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا
(75) He said, “Did I not tell you that you will never be able to patiently stay with me?”
(75) کہا میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہرسکیں گے
(76)قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْۚ-قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا
(76) Said Moosa, “If I ask you anything after this, do not stay with me; indeed your condition from me is fulfilled.”
(76) کہا اس کے بعد میں تم سے کچھ پوچھوں تو پھر میرے ساتھ نہ رہنا، بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا،
(77)فَانْطَلَقَاٙ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ-ﹰاسْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗؕ-قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا
(77) So they both set out again; until they came to the people of a dwelling – they asked its people for food – they refused to invite them – then in the village they both found a wall about to collapse, and the chosen bondman straightened it; said Moosa, “If you wished, you could have taken some wages for it!”
(77) پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک گاؤں والوں کے پاس آئے ان دہقانوں سے کھانا مانگا انہوں نے انہیں دعوت دینی قبول نہ کی پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پا ئی کہ گرا چاہتی ہے اس بندہ نے اسے سیدھا کردیا، موسیٰ نے کہا تم چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے لیتے
(78)قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَۚ-سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا
(78) He said, “This is the parting between you and me; I shall now tell you the interpretation of the matters you could not patiently bear.”
(78) کہا یہ میری اور آپ کی جدائی ہے اب میں آپ کو ان باتوں کا پھیر (بھید) بتاؤں گا جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا
(79)اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا
(79) “In respect of the boat – it belonged to the poor people who worked on the river, so I wished to flaw it – and behind them was a king who would capture every sound ship.”
(79) وہ جو کشتی تھی وہ کچھ محتاجوں کی تھی کہ دریا میں کام کرتے تھے، تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے پیچھے ایک بادشاہ تھا کہ ہر ثابت کشتی زبردستی چھین لیتا
(80)وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ
(80) “And in respect of the boy – his parents were Muslims and we feared that he may incite them to rebellion and disbelief.”
(80) اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ ان کو سرکشی اور کفر پر چڑھاوے
(81)فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا
(81) “So we wished that their Lord may bestow them a child – better, purer and nearer to mercy.”
(81) تو ہم نے چاہا کہ ان دونوں کا رب اس سے بہتر ستھرا اور اس سے زیادہ مہربانی میں قریب عطا کرے
(82)وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًاۚ-فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا ﳓ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَۚ-وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْؕ-ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا ﮒ
(82) “And in respect of the wall – it belonged to two orphan boys of the city, and beneath it was their treasure, and their father was a virtuous man; therefore your Lord willed that they should reach their maturity and remove their treasure; by the mercy of your Lord; and I have not done this at my own command; this is the interpretation of the matters you could not patiently bear.” (* Hazrat Khidr was given the knowledge of the hidden – as in all three explanations he gave).
(82) رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں، آپ کے رب کی رحمت سے اور یہ کچھ میں نے اپنے حکم سے نہ کیا یہ پھیر ہے ان باتوں کا جس پر آپ سے صبر نہ ہوسکا
10ع82
(83)وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِؕ-قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاﭤ
(83) And they ask you regarding Zul-Qarnain; say, “I shall recite his story to you.”
(83) اور تم سے ذوالقرنین کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ میں تمہیں اس کا مذکور پڑھ کر سناتا ہوں،
(84)اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ
(84) Indeed We gave him authority in the land and bestowed him the means of everything.
(84) بیشک ہم نے اسے زمین میں قابو دیا اور ہر چیز کا ایک سامان عطا فرمایا
(85)فَاَتْبَعَ سَبَبًا
(85) He therefore pursued a purpose.
(85) تو وہ ایک سامان کے پیچھے چلا
(86)حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا۬ؕ-قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا
(86) To the extent that when he reached the setting-place of the sun, he found it setting in a muddy spring, and found a nation there; We said, “O Zul-Qarnain – either punish them or choose kindness for them.”
(86) یہاں تک کہ جب سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا اسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا پایا اور وہاں ایک قوم ملی ہم نے فرمایا اے ذوالقرنین یا تو تُو انہیں عذاب دے یا ان کے ساتھ بھلائی اختیار کرے
(87)قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا
(87) He submitted, “Regarding one who has done injustice, we shall soon punish him – he will then be brought back to his Lord, Who will punish him severely.”
(87) عرض کی کہ وہ جس نے ظلم کیا اسے تو ہم عنقریب سزادیں گے پھر اپنے رب کی طرف پھیرا جائے گا وہ اسے بری مار دے گا،
(88)وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اﰳلْحُسْنٰىۚ- وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاﭤ
(88) “And regarding one who believed and did good deeds – so his reward is goodness; and we shall soon give him an easy command.”
(88) اور جو ایمان لایا اور نیک کام کیا تو اس کا بدلہ بھلائی ہے اور عنقریب ہم اسے آسان کام کہیں گے
(89)ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا
(89) He again pursued a purpose.
(89) پھر ایک سامان کے پیچھے چلا
(90)حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ
(90) To the extent that when he reached the rising-place of the sun, he found it rising upon a nation for which We had not kept any shelter from it.
(90) یہاں تک کہ جب سورج نکلنے کی جگہ پہنچا، اسے ایسی قوم پر نکلتا پایا جن کے لیے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں رکھی
(91)كَذٰلِكَؕ-وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا
(91) So it is; and Our knowledge encompasses all that he possessed.
(91) بات یہی ہے، اور جو کچھ اس کے پاس تھا سب کو ہمارا علم محیط ہے
(92)ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا
(92) He again pursued a purpose.
(92) پھر ایک ساما ن کے پیچھے چلا
(93)حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًاۙ-لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا
(93) Until, when he came between two mountains, he found before them a nation that did not appear to understand any speech.
(93) یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے بیچ پہنچا ان سے ادھر کچھ ایسے لوگ پائے کہ کوئی بات سمجھتے معلوم نہ ہوتے تھے
(94)قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا
(94) They said, “O Zul-Qarnain – indeed Yajuj and Majuj* are spreading chaos in the land – so shall we assign for you a consideration upon the condition that you set up a wall between us and them?” (* Gog and Magog.)
(94) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بیشک یاجوج ماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ مال مقرر کردیں اس پر کہ آپ ہم میں اور ان میں ایک دیوار بنادیں
(95)قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ
(95) He said, “That which my Lord has given me control over is better, therefore help me with strength – I shall set up a barrier between you and them.”
(95) کہا وہ جس پر مجھے میرے رب نے قابو دیا ہے بہتر ہے تو میری مدد طاقت سے کرو میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط آڑ بنادوں
(96)اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِؕ-حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًاۙ-قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاﭤ
(96) “Give me sheets of iron”; until when he had raised the wall equal to the edge of the two mountains, he said, “Blow”; to the extent that he made it ablaze – he said, “Bring me molten copper to pour upon it.”
(96) میرے پاس لوہے کے تختے لاؤ یہاں تک کہ وہ جب دیوار دونوں پہاڑوں کے کناروں سے برابر کردی، کہا دھونکو، یہاں تک کہ جب اُسے آگ کردیا کہا لاؤ، میں اس پر گلا ہوا تانبہ اُنڈیل دوں،
(97)فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا
(97) Therefore Yajuj and Majuj were neither able to surmount it, nor could they pierce it.
(97) تو یاجوج و ماجوج اس پر نہ چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کرسکے،
(98)قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْۚ-فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَۚ-وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاﭤ
(98) He said, “This is the mercy of my Lord; then when the promise of my Lord arrives, He will blow it to bits; and my Lord’s promise is true.”
(98) کہا یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا اسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے
(99)وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَىٕذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ
(99) And on that day We shall release them in groups surging like waves one after another, and the Trumpet will be blown – so We shall gather them all together. (* Gog and Magog will come out during the time of Eisa (Jesus – when he comes back to earth) and cause great destruction in the land.)
(99) اور اس دن ہم انہیں چھوڑ دیں گے کہ ان کا ایک گروہ دوسرے پر ریلا (سیلاب کی طرح) آوے گا اور صُور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو اکٹھا کر لائیں گے
(100)وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَىٕذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاﰳۙ
(100) And We shall bring hell in front of the disbelievers.
(100) اور ہم اس دن جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے
(101)الَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠
(101) The ones whose eyes were covered from My remembrance, and who could not bear to hear Truth.
(101) وہ جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا تھا اور حق بات سن نہ سکتے تھے
11ع101
(102)اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَؕ-اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا
(102) Do the disbelievers assume that they will be able to choose My bondmen as supporters other than Me? Indeed We have prepared hell to welcome the disbelievers.
(102) تو کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی بنالیں گے بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کو جہنم تیار کر رکھی ہے،
(103)قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاﭤ
(103) Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Shall we inform you whose are the most failed works?”
(103) تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں
(104)اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا
(104) “Of those whose efforts are lost in (pursuit of) the life of this world, and they think that they are doing good deeds.”
(104) ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کررہے ہیں،
(105)اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآىٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا
(105) The people who disbelieved in the signs of their Lord and in the meeting with Him, therefore all their deeds are in vain –We shall therefore not establish any weighing for them on the Day of Resurrection.
(105) یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے
(106)ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا
(106) This is their reward – hell – because they disbelieved, and made a mockery of My verses and My Noble Messengers.
(106) یہ ان کا بدلہ ہے جہنم، اس پر کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کی ہنسی بنائی،
(107)اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ
(107) Indeed those who believed and did good deeds – their welcome are the Gardens of Paradise.
(107) بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے
(108)خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا
(108) They will abide in it for ever, never wanting to shift from it.
(108) وہ ہمیشہ ان ہی میں رہیں گے ان سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے
(109)قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا
(109) Proclaim, “If the sea became ink for the Words of my Lord, the sea would indeed be used up and the Words of my Lord would never – even if we bring another like it for help.”
(109) تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے، سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں
(110)قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠
(110) Proclaim, “Physically I am a human* like you – my Lord sends divine revelations to me – that your God is only One God; so whoever expects to the meet his Lord must perform good deeds and not ascribe anyone as a partner in the worship of his Lord.” (* Human but not equal to you, in fact the greatest in spiritual status.)
(110) تو فرماؤ ظاہر صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے
12ع110
Ayat:98سورة مريم (مکی)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِPara: 16Ruku: 6
(1)كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ
(1) Kaf-Ha-Ya-A’in-Sad. (* Alphabets of the Arabic language – Allah and to whomever He reveals know their precise meanings.)
(1) کھیٰعص
(2)ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ
(2) This is the remembrance of the mercy of your Lord upon His bondman Zakaria.
(2) یہ مذکور ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی،
(3)اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا
(3) When he softly prayed to his Lord.
(3) جب اس نے اپنے رب کو آہستہ پکارا
(4)قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآىٕكَ رَبِّ شَقِیًّا
(4) He submitted, “O my Lord – my bones have become weak and old age shines forth from my head, and O my Lord, I have never been disappointed in my prayer to you.”
(4) عرض کی اے میرے رب میری ہڈی کمزور ہوگئی اور سرے سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا (شعلہ چمکا) اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا
(5)وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ
(5) “And I fear my relatives after me and my wife is barren therefore bestow upon me from Yourself one who will take up my work.”
(5) اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے اور میری عورت بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائے
(6)یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ ﳓ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا
(6) “He being my successor and the heir of the Descendants of Yaqub (Jacob); and my Lord, make him a cherished* one.” (* Make him a Prophet among the Descendants of Israel.)
(6) وہ میرا جانشین ہو اور اولاد یعقوب کا وارث ہو، اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ کر
(7)یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ-ﹰاسْمُهٗ یَحْیٰىۙ-لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا
(7) “O Zakaria! We give you the glad tidings of a son whose name is Yahya (John) – before him, We have not created anyone of this name.”
(7) اے زکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں ایک لڑکے کی جن کا نام یحییٰ ہے اس کے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی نہ کیا،
(8)قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا
(8) He submitted, “My Lord – how can I have a son whereas my wife is barren and I have reached infirmity due to old age?”
(8) عرض کی اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا
(9)قَالَ كَذٰلِكَۚ-قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْــٴًـا
(9) He (the angel) said, “So it is; your Lord says, ‘This is easy for Me – in fact I created you before this, at a time when you did not exist.’”
(9) فرمایا ایسا ہی ہے تیرے رب نے فرمایا وہ مجھے آسان ہے اور میں نے تو اس سے پہلے تجھے اس وقت بنایا جب تک کچھ بھی نہ تھا
(10)قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةًؕ-قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا
(10) He said, “My Lord, give me a sign”; He said, “Your token is that you will not speak to people for three nights, although in proper health.”
(10) عرض کی اے میرے رب! مجھے کوئی نشانی دے دے فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہوکر
(11)فَخَرَ جَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا
(11) He therefore emerged upon his people from the mosque, and told them through gestures, “Keep proclaiming the Purity (of your Lord) morning and evening.”
(11) تو اپنی قوم پر مسجد سے باہر آیا تو انہیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو،
(12)یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍؕ-وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ
(12) “O Yahya – hold the Book firmly”; and We gave him Prophethood in his infancy. (Prophet Yahya was only 2 years old at that time.)
(12) اے یحییٰ کتاب مضبوط تھام، اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی
(13)وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةًؕ-وَ كَانَ تَقِیًّاۙ
(13) And compassion from Ourselves, and chastity; and he was extremely pious.
(13) اور اپنی طرف سے مہربانی اور ستھرائی اور کمال ڈر والا تھا
(14)وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا
(14) And was good to his parents and not forceful, nor disobedient.
(14) اور اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرنے والا تھا زبردست و نافرمان نہ تھا
(15)وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠
(15) And peace is upon him the day he was born, and the day he will taste death, and the day he will be raised alive.
(15) اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اورجس دن مردہ اٹھایا جائے گا
1ع15
(16)وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَۘ-اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ
(16) And remember Maryam in the Book; when she went away from her family to a place towards east.
(16) اور کتاب میں مریم کو یاد کرو جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی
(17)فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا ﱏ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا
(17) So there she screened herself from them; We therefore sent Our Spirit towards her – he appeared before her in the form of a healthy man. (Angel Jibreel – peace be upon him.)
(17) تو ان سے ادھر ایک پردہ کرلیا، تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا،
(18)قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا
(18) She said, “I seek the refuge of the Most Gracious from you – if you fear God.”
(18) بولی میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے،
(19)قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ ﳓ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا
(19) He said, “I am indeed one sent by your Lord; so that I may give you a chaste son.”
(19) بولا میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں،
(20)قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّاٛٛ
(20) She said, “How can I bear a son? No man has ever touched me, nor am I of poor conduct!”
(20) بولی میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا نہ میں بدکار ہوں،
ربع
(21)قَالَ كَذٰلِكِۚ-قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌۚ-وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّاۚ-وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا
(21) He said, “So it is; your Lord has said, ‘This is easy for Me’; and in order that We make him a sign for mankind and a Mercy from Us; and this matter has been decreed.”
(21) کہا یونہی ہے تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے، اور اس لیے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ٹھہرچکا ہے
(22)فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا
(22) So she conceived him, and she went away with him to a far place.
(22) اب مریم نے اسے پیٹ میں لیا پھر اسے لیے ہوئے ایک دور جگہ چلی گئی
(23)فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِۚ-قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا
(23) Then the pangs of childbirth brought her to the base of the palm-tree; she said, “Oh, if only had I died before this and had become forgotten, unremembered.”
(23) پھر اسے جننے کا درد ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا بولی ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور بھولی بسری ہوجاتی،
(24)فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا
(24) (The angel) Therefore called her from below her, “Do not grieve – your Lord has made a river flow below you.”
(24) تو اسے اس کے تلے سے پکارا کہ غم نہ کھا بیشک تیرے رب نے نیچے ایک نہر بہادی ہے
(25)وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘
(25) “And shake the trunk of the palm-tree towards you – ripe fresh dates will fall upon you.” (This was a miracle – the date palm was dry and it was winter season.)
(25) اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی
(26)فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًاۚ-فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًاۙ-فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ
(26) “Therefore eat and drink and appease your eyes; so if you meet any person then say, ‘I have pledged a fast (of silence) to the Most Gracious – I will therefore not speak to any person today.’”
(26) تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو کہہ دینا میں نے آج رحمان کا روزہ مانا ہے تو آج ہرگز کسی آدمی سے بات نہ کرو ں گی
(27)فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗؕ-قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْــٴًـا فَرِیًّا
(27) So carrying him in her arms, she brought him to her people; they said, “O Maryam, you have indeed committed a great evil!”
(27) تو اسے گود میں لے اپنی قوم کے پاس آئی بولے اے مریم! بیشک تو نے بہت بری بات کی،
(28)یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ
(28) “O sister of Haroon, neither was your father an evil man nor was your mother of poor conduct!”
(28) اے ہارون کی بہن تیرا باپ برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں بدکار،
(29)فَاَشَارَتْ اِلَیْهِؕ-قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا
(29) Thereupon she pointed towards the child; they said, “How can we speak to an infant who is in the cradle?”
(29) اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا وہ بولے ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہے
(30)قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ ﳴ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ
(30) The child proclaimed, “I am Allah’s bondman; He has given me the Book and made me a Herald of the Hidden (a Prophet).”
(30) بچہ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی) کیا
(31)وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ۪-وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّاﳚ
(31) “And He has made me blessed wherever I be; and ordained upon me prayer and charity, as long as I live.”
(31) اور اس نے مجھے مبارک کیا میں کہیں ہوں اور مجھے نماز و زکوٰة کی تاکید فرمائی جب تک جیوں،
(32)وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ٘-وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا
(32) “And has made me good to my mother and not made me forceful, ill-fated.”
(32) اور اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا اور مجھے زبردست بدبخت نہ کیا،
(33)وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا
(33) “And peace is upon me the day I was born, and on the day I shall taste death, and on the day I will be raised alive.”
(33) اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں
(34)ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَۚ-قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ
(34) This is Eisa (Jesus), the son of Maryam; a true statement, in which they doubt.
(34) یہ ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا سچی بات جس میں شک کرتے ہیں
(35)مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍۙ-سُبْحٰنَهٗؕ-اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُﭤ
(35) It does not befit Allah to appoint someone as His son – Purity is to Him! When He ordains a matter, He just commands it, “Be” – and it thereupon happens.
(35) اللہ کو لائق نہیں کہ کسی کو اپنا بچہ ٹھہرائے پاکی ہے اس کو جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو یونہی کہ اس سے فرماتا ہے ہوجاؤ وہ فوراًٰ ہوجاتا ہے،
(36)وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ
(36) And said Eisa, “Indeed Allah is my Lord and your Lord – therefore worship Him; this is the Straight Path.”
(36) اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو، یہ راہ سیدھی ہے،
(37)فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْۚ-فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ
(37) Then groups among them differed; so ruin is for the disbelievers from the witnessing of a Great Day.
(37) پھر جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں تو خرابی ہے، کافروں کے لیے ایک بڑے دن کی حاضری سے
(38)اَسْمِـعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْۙ-یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
(38) Much will they listen and much will they see, on the Day when they come to Us, but today the unjust are in open error.
(38) کتنا سنیں گے اور کتنا دیکھیں گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہونگے مگر آج ظالم کھلی گمراہی میں ہیں
(39)وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُۘ-وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
(39) And warn them of the Day of Regret when the matter will have been decided; and they are in neglect, and they do not accept faith.
(39) اور انہیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا جب کام ہوچکے گا اور وہ غفلت میں ہیں اور نہیں مانتے،
(40)اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠
(40) Indeed We shall inherit the earth and all that is on it, and only towards Us will they return.
(40) بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے اور وہ ہماری ہی طرف پھریں گے
2ع40
(41)وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ۬ؕ-اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا
(41) And remember Ibrahim in the Book; he was very truthful, a Herald of the Hidden (a Prophet).
(41) اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا (نبی) غیب کی خبریں بتاتا،
(42)اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْــٴًـا
(42) When he said to his father,* “O my father – why do you worship one which neither hears nor sees, and cannot benefit you in any way?” (* His uncle Azar.)
(42) جب اپنے باپ سے بولا اے میرے باپ کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سنے نہ دیکھے اور نہ کچھ تیرے کام آئے
(43)یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا
(43) “O my father, indeed a knowledge has come to me which did not come to you – therefore follow me, I will show you the Straight Path.”
(43) اے میرے باپ بیشک میرے پاس وہ علم آیا جو تجھے نہ آیا تو تُو میرے پیچھے چلا آ میں تجھے سیدھی راہ دکھاؤں
(44)یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا
(44) “O my father, do not be a bondman of the devil; indeed the devil is disobedient towards the Most Gracious.”
(44) اے میرے باپ شیطان کا بندہ نہ بن بیشک شیطان رحمان کا نافرمان ہے،
(45)یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا
(45) “O my father, I fear that a punishment from the Most Gracious may reach you, so you would become a companion of the devil.”
(45) اے میرے باپ میں ڈرتا ہوں کہ تجھے رحمن کا کوئی عذاب پہنچے تو تُو شیطان کا رفیق ہوجائے
(46)قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُۚ-لَىٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا
(46) He said, “What! You turn away from my Gods, O Ibrahim? If you do not desist, I will certainly stone you, and keep no relation with me for a long while.”
(46) بولا کیا تو میرے خداؤں سے منہ پھیرتا ہے، اے ابراہیم بیشک اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھراؤ کروں گا اور مجھ سے زمانہ دراز تک بے علاقہ ہوجا
(47)قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَۚ-سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْؕ-اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا
(47) He said, “Stop it – peace be upon you; I shall seek forgiveness for you from my Lord; indeed He is very kind to me.”
(47) کہا بس تجھے سلام ہے قریب ہے کہ میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا بیشک وہ مجھ مہربان ہے،
(48)وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ ﳲ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا
(48) "And I shall remain separated from you and all that you worship other than Allah and shall worship my Lord; possibly, by worshipping my Lord, I will not be amongst the unfortunate.”
(48) اور میں ایک کنارے ہوجاؤں گا تم سے اور ان سب سے جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو اور اپنے رب کو پوجوں گا قریب ہے کہ میں اپنے رب کی بندگی سے بدبخت نہ ہوں
(49)فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِۙ-وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا
(49) So when he had separated from them and what they worshipped other than Allah, We bestowed him Ishaq and Yaqub; and We made each of them a Herald of the Hidden.
(49) پھر جب ان سے اور اللہ کے سوا ان کے معبودوں سے کنارہ کر گیا ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے، اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا،
(50)وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠
(50) And We gave them Our mercy, and assigned for them a true and high repute.
(50) اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی
3ع50
(51)وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى٘-اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا
(51) And remember Moosa in the Book; he was indeed a chosen one, and he was a Noble Messenger, a Herald of the Hidden.
(51) اور کتاب میں موسیٰ کو یاد کرو، بیشک وہ چنا ہوا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتانے والا،
(52)وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا
(52) We called him from the right side of the mountain Tur, and brought him close to reveal Our secret.
(52) اور اسے ہم نے طور کی داہنی جانب سے ندا فرمائی اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا
(53)وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا
(53) And with Our mercy We bestowed upon him his brother Haroon, a Prophet.
(53) اور اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون عطا کیا (غیب کی خبریں بتانے والا نبی)
(54)وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ
(54) And remember Ismail in the Book; he was indeed true to his promise and was a Noble Messenger, a Prophet.
(54) اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتاتا،
(55)وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ۪-وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا
(55) He used to command his people to offer prayer and give charity, and was liked by his Lord.
(55) اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم دیتا اور اپنے رب کو پسند تھا
(56)وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ
(56) And remember Idrees in the Book; he was indeed very truthful, a Prophet.
(56) اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں دیتا،
(57)وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا
(57) And We lifted him to a high position. (Living with soul & body in heaven, after his death.)
(57) اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا
(58)اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَۗ-وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ٘-وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ٘-وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَاؕ-اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩
(58) It is these upon whom Allah has bestowed favour among the Prophets, from the descendants of Adam; and from those whom We boarded along with Nooh; and from the descendants of Ibrahim and Israel; and from those whom We guided and chose; when the verses of the Most Gracious were recited to them, they fell down, prostrating and weeping. (* Command of Prostration # 5.)
(58) یہ ہیں جن پر ا لله نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے میں سے آدم کی اولاد سے اور ان میں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے راہ دکھائی اور چن لیا جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں گر پڑتے سجدہ کرتے اور روتے (السجدة) ۵
سجدہ
(59)فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ
(59) And after them came the unworthy successors who squandered prayer and pursued their own desires, so they will soon encounter the forest of Gai in hell.
(59) تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے
(60)اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓىٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْــٴًـاۙ
(60) Except those who repented and accepted faith and did good deeds – so these will enter heaven, and they will not be deprived* in the least. (* Of their due reward.)
(60) مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور انہیں کچھ نقصان نہ دیا جائے گا
(61)جَنّٰتِ عَدْنِ ﹰالَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِؕ-اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا
(61) Everlasting Gardens of Eden, which the Most Gracious has promised to His bondmen in the unseen; indeed His promise will come.
(61) بسنے کے باغ جن کا وعدہ رحمن نے اپنے بندوں سے غیب میں کیا بیشک اس کا وعدہ آنے والا ہے،
(62)لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًاؕ-وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا
(62) They will not hear any lewd talk in it, but only Peace; and in it for them is sustenance, every morning and evening.
(62) وہ اس میں کوئی بیکار بات نہ سنیں گے مگر سلام اور انہیں اس میں ان کا رزق ہے صبح و شام
(63)تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا
(63) It is the Paradise that We will bequeath to those among Our bondmen who remain pious.
(63) یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہے،
(64)وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَۚ-لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَۚ-وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ
(64) (Said Angel Jibreel to Prophet Mohammed – peace and blessings be upon them) “And we angels do not come down except by the command of your Lord; to Him only belongs all that is ahead of us and all that is behind us and all that is between them; and your Lord is not forgetful.”
(64) (اور جبریل نے محبوب سے عرض کی (ٖف ۱۰۹) ہم فرشتے نہیں اترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے اور حضور کا رب بھولنے والا نہیں
(65)رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖؕ-هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠
(65) Lord of the heavens and the earth and all that is between them – therefore worship Him and be firm in His worship; do you know any other of the same name as His?
(65) آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے سب کا مالک تو اے پوجو اور اس کی بندگی پر ثابت رہو، کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہو
4ع65
(66)وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَ جُ حَیًّا
(66) And says man, “When I am dead, will I soon be brought forth alive?”
(66) اور آدمی کہتا ہے کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب جِلا کر نکالا جاؤں گا
(67)اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْــٴًـا
(67) Does not man remember that We created him before this, and he was non existent?
(67) اور کیا آدمی کو یاد نہیں کہ ہم نے اس سے پہلے اسے بنایا اور وہ کچھ نہ تھا
(68)فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ
(68) So by your Lord, We shall assemble them and the devils – all of them – and bring them around hell, fallen on their knees.
(68) تو تمہارے رب کی قسم ہم انہیں اور شیطانوں سب کو گھیر لائیں گے اور انہیں دوزخ کے آس پاس حاضر کریں گے گھٹنوں کے بل گرے،
(69)ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ
(69) We shall then pick out from every group the one who was most arrogant towards the Most Gracious.
(69) پھر ہم ہر گروہ سے نکالیں گے جو ان میں رحمن پر سب سے زیادہ بے باک ہوگا
(70)ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا
(70) Moreover, We well know those who most deserve to be burned in hell.
(70) پھر ہم خوب جانتے ہیں جو اس آگ میں بھوننے کے زیادہ لائق ہیں،
(71)وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ
(71) And there is none among you who shall not pass over hell; this is an obligatory affair, binding upon your Lord. (Allah will make everyone pass over the back of hell – on a thin bridge.)
(71) اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے
(72)ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا
(72) We shall then rescue the pious – and leave the unjust in it, fallen on their knees.
(72) پھر ہم ڈر والوں کو بچالیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے،
(73)وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤاۙ-اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا
(73) And when Our clear verses are recited to them, the disbelievers say to the Muslims, “Which group has a better home, and a better alliance?”
(73) اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کون سے گروہ کا مکان اچھا اورمجلس بہتر ہے
(74)وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا
(74) And many a generation We did destroy before them, who exceeded them in wealth and pomp!
(74) اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپادیں (قومیں ہلاک کردیں) کہ وہ ان سے بھی سامان اور نمود میں بہتر تھے،
(75)قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّاۚ۬-حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَؕ-فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا
(75) Proclaim, “For one in error – so the Most Gracious may give him respite; to the extent that when they see the thing which they are promised – either the punishment or the Last Day; so then they will come to know for whom is the evil rank and whose army is weak.”
(75) تم فرماؤ جو گمراہی میں ہو تو اسے رحمن خوب ڈھیل دے یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے یا تو عذاب یا قیامت تو اب جان لیں گے کہ کس کا برا درجہ ہے اور کس کی فوج کمزور
(76)وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًىؕ-وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا
(76) And Allah will increase the guidance for those who have received guidance; and good deeds that remain have the best reward before your Lord, and the best outcome.
(76) او رجنہوں نے ہدایت پائی اللہ انھیں اور ہدایت بڑھائے گا اور باقی رہنے والی نیک باتوں کا تیرے رب کے یہاں سب سے بہتر ثواب اور سب سے بھلا انجام
(77)اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاﭤ
(77) So have you seen him who denied Our signs and says, “I shall certainly be given wealth and children?”
(77) تو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرو ر مال و اولاد ملیں گے
(78)اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ
(78) Has he seen the Hidden, or has he made a pact with the Most Gracious?
(78) کیا غیب کو جھانک آیا ہے یا رحمن کے پاس کوئی قرار رکھا ہے،
(79)كَلَّاؕ-سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ
(79) Never; We shall now record what he says and give him a prolonged punishment.
(79) ہرگز نہیں اب ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اسے خوب لمبا عذاب دیں گے،
(80)وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا
(80) And it is We only Who shall inherit what he says (belongs to him), and he will come to Us, alone.
(80) اور جو چیزیں کہہ رہا ہے ان کے ہمیں وارث ہوں گے اور ہمارے پاس اکیلا آئے گا
(81)وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ
(81) And they have chosen Gods besides Allah, so that they may provide them strength!
(81) اور اللہ کے سوا اور خدا بنالیے کہ وہ انہیں زور دیں
(82)كَلَّاؕ-سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠
(82) Never; soon they will deny ever worshipping them, and will turn into their opponents.
(82) ہرگز نہیں کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان کی بندگی سے منکر ہوں گے اور ان کے مخالفت ہوجائیں گے
5ع82
(83)اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ
(83) Did you not see that We sent devils upon the disbelievers, so they excite them abundantly?
(83) کیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیطان بھیجے کہ وہ انہیں خوب اچھالتے ہیں
(84)فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ
(84) So do not be impatient for them (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); We are only completing their number.* (* The number of days left for them or their evil deeds.)
(84) تو تم ان پر جلدی نہ کرو، ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں
(85)یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ
(85) On the day when We shall assemble the righteous towards the Most Gracious, as guests.
(85) جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بناکر
(86)وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاﭥ
(86) And drive the guilty towards hell, thirsty.
(86) اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے
(87)لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاﭥ
(87) People do not own the right to intercede, except those* who have made a covenant with the Most Gracious. (* The Holy Prophets and virtuous people will be given the permission to intercede. Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – will be the first to intercede.)
(87) لوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس قرار رکھا ہے
(88)وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاﭤ
(88) And the disbelievers said, “The Most Gracious has chosen an offspring.”
(88) اور کافر بولے رحمن نے اولاد اختیار کی،
(89)لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْــٴًـا اِدًّاۙ
(89) You have indeed brought an extremely grave speech!
(89) بیشک تم حد کی بھاری بات لائے
(90)تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ
(90) The heavens are close to being torn apart by it, and the earth being split asunder, and the mountains succumbing and falling down.
(90) قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھ کر (مسمار ہوکر)
(91)اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ
(91) Due to their ascribing of an offspring to the Most Gracious.
(91) اس پر کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد بتائی،
(92)وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاﭤ
(92) And it does not befit the Most Gracious to choose an offspring!
(92) اور رحمن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے
(93)اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاﭤ
(93) All those who are in the heavens and the earth will come to the Most Gracious as His bondmen.
(93) آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں گے،
(94)لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاﭤ
(94) He knows their number and has counted each one of them.
(94) بیشک وہ ان کا شمار جانتا ہے اور ان کو ایک ایک کرکے گن رکھا ہے
(95)وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا
(95) And each one of them will come before Him on the Day of Resurrection, alone.
(95) اور ان میں ہر ایک روز قیامت اس کے حضور اکیلا حاضر ہوگا
(96)اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا
(96) Indeed those who believed and did good deeds – the Most Gracious will appoint love for them. (In the hearts of other believers.)
(96) بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ان کے لیے رحمن محبت کردے گا
(97)فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا
(97) We have therefore made this Qur’an easy upon your tongue, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) for you to announce glad tidings with it to those who fear, and warn those who are quarrelsome.
(97) تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں یونہی آسان فرمایا کہ تم اس سے ڈر والوں کو خوشخبری دو اور جھگڑالو لوگوں کو اس سے ڈر سناؤ،
(98)وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍؕ-هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ ٜ
(98) And many a generation We did destroy before them; do you see any one of them or hear their faintest sound?
(98) اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (قومیں ہلاک کیں) کیا تم ان میں کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی بھنک (ذرا بھی آواز) سنتے ہو
نصف6ع98
Ayat:135سورة طه (مکی)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِPara: 16Ruku: 8
(1)طٰهٰۚ
(1) Ta-Ha.* (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) (Alphabets of the Arabic language – Allah and to whomever He reveals know their precise meanings.)
(1) طٰهٰ
(2)مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ
(2) We have not sent down this Qur’an upon you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) for you to fall into hardship! (Either because he used to pray at length during the night or because he was distressed due to the disbelievers not accepting faith.)
(2) اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اتارا کہ مشقت میں پڑو
(3)اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ
(3) Except as a reminder for one who fears.
(3) ہاں اس کو نصیحت جو ڈر رکھتا ہو
(4)تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىﭤ
(4) Sent down by One Who created the earth and the lofty heavens.
(4) اس کا اتارا ہوا جس نے زمین اور اونچے آسمان بنائے،
(5)اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى
(5) The Most Gracious Who, befitting His Majesty, took to the Throne (of control).
(5) وہ بڑی مہر والا، اس نے عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے،
(6)لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى
(6) To Him only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth, and all whatever is between them, and all whatever is beneath this wet soil.
(6) اس کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں اور جو کچھ اس گیلی مٹی کے نیچے ہے
(7)وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى
(7) And if you speak aloud – so He surely knows the secret and that which is more concealed.
(7) اور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے
(8)اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى
(8) Allah – there is no worship except for Him; His only are the best names.
(8) اللہ کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسی کے ہیں سب اچھے نام
(9)وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىﭥ
(9) And did the news of Moosa reach you?
(9) اور کچھ تمہیں موسیٰ کی خبر آئی
(10)اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى
(10) When he saw a fire and said to his wife, “Wait – I have seen a fire – perhaps I may bring you an ember from it or find a way upon the fire.”
(10) جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا ٹھہرو مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں تمہارے لیے اس میں سے کوئی چنگاری لاؤں یا آ گ پر راستہ پاؤں،
(11)فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىﭤ
(11) So when he came near the fire, it was announced, “O Moosa!”
(11) پھر جب آگ کے پاس آیا ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ،
(12)اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَۚ-اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىﭤ
(12) “Indeed I am your Lord, therefore take off your shoes; indeed you are in the holy valley of Tuwa!”
(12) بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار ڈال بیشک تو پاک جنگل طویٰ میں ہے
(13)وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِـعْ لِمَا یُوْحٰى
(13) “And I have chosen you, therefore listen carefully to what is divinely revealed to you.”
(13) اور میں نے تجھے پسند کیا اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے،
(14)اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْۙ-وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ
(14) “Indeed it is Me, Allah – there is no God except I – therefore worship Me and keep the prayer established for My remembrance.”
(14) بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ
(15)اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى
(15) “The Last Day will surely come – it was close that I hide it from all – in order that every soul may get the reward of its effort.” (He revealed it to His Prophets, so that people may fear and get ready. The exact time is not revealed to the people.)
(15) بیشک قیامت آنے والی ہے قریب تھا کہ میں اسے سب سے چھپاؤں کہ ہر جان اپنی کوشش کا بدلہ پائے
(16)فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى
(16) “Therefore never let one, who does not accept faith in it and follows his own desires, prevent you from accepting this, so then you become ruined.”
(16) تو ہرگز تجھے اس کے ماننے سے وہ باز نہ رکھے جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش کےم پیچھے چلا پھر تو ہلاک ہوجائے،
(17)وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى
(17) “And what is this in your right hand, O Moosa?”
(17) اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ
(18)قَالَ هِیَ عَصَایَۚ-اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى
(18) He said, “This is my staff; I support myself on it, and I knock down leaves for my sheep with it, and there are other uses for me in it.”
(18) عرض کی یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اس میں اور کام ہیں
(19)قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى
(19) He said, “Put it down, O Moosa!
(19) فرمایا اسے ڈال دے اے موسیٰ،
(20)فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى
(20) So Moosa put it down – thereupon it became a fast moving serpent.
(20) تو موسیٰ نے ڈال دیا تو جبھی وہ دوڑتا ہوا سانپ ہوگیا
(21)قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْٙ-سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى
(21) He said, “Pick it up and do not fear; We shall restore it to its former state.”
(21) فرمایا اسے اٹھالے اور ڈر نہیں، اب ہم اسے پھر پہلی طرح کردیں گے
(22)وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُ جْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ
(22) “And put your hand inside your armpit – it will come out shining white, not due to any illness – one more sign.”
(22) اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا خوب سپید نکلے گا بے کسی مرض کے ایک اور نشانی
(23)لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ
(23) “In order that We may show you Our great signs.”
(23) کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں،
(24)اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠
(24) “Go to Firaun, he has rebelled.”
(24) فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا
1ع24
(25)قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ
(25) Said Moosa, “My Lord, open up my breast for me.”
(25) عرض کی اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے
(26)وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ
(26) “And make my task easy for me.”
(26) اور میرے لیے میرا کام آسان کر،
(27)وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ
(27) “And untie the knot of my tongue.”
(27) اور میری زبان کی گرہ کھول دے،
(28)یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪
(28) “In order that they may understand my speech.”
(28) کہ وہ میری بات سمجھیں،
(29)وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ
(29) “And appoint for me a viceroy from among my family.”
(29) اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے،
(30)هٰرُوْنَ اَخِیۙ
(30) “That is Haroon, my brother.”
(30) وہ کون میرا بھائی ہارون،
(31)اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ
(31) “Back me up with him.”
(31) اس سے میری کمر مضبوط کر،
(32)وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ
(32) “And make him a partner in my task.”
(32) اور اسے میرے کام میں شریک کر
(33)كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ
(33) “In order that we may profusely proclaim Your Purity.”
(33) کہ ہم بکثرت تیری پاکی بولیں،
(34)وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاﭤ
(34) “And profusely remember You.”
(34) اور بکثرت تیری یاد کریں
(35)اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا
(35) “Indeed You see us.”
(35) بیشک تو ہمیں دیکھ رہا ہے
(36)قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى
(36) He said, “O Moosa, you have been granted your prayer.”
(36) فرمایا اے موسیٰ تیری مانگ تجھے عطا ہوئی،
(37)وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ
(37) “And indeed We had bestowed upon you a favour one more time.”
(37) اور بیشک ہم نے تجھ پر ایک بار اور احسان فرمایا
(38)اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ
(38) “When We inspired in your mother’s heart whatever was to be inspired.”
(38) جب ہم نے تیری ماں کو الہام کیا جو الہام کرنا تھا
(39)اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗؕ-وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ ﳛ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْﭥ
(39) “That, ‘Put him into a chest and cast it into the river, so the river shall deposit it on to a shore – therefore one who is an enemy to Me and you, shall pick him up’; and I bestowed upon you love from Myself; and for you to be brought up in My sight.”
(39) کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دے، و دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھالے جو میرا دشمن اور اس کا دشمن اور میں نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت ڈالی اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو
(40)اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗؕ-فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ۬ؕ-وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا ﲕ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ ﳔ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى
(40) “When your sister went, then said, ‘Shall I show you the people who may nurse him?’ And We brought you back to your mother in order to soothe her eyes and that she may not grieve; and you killed a man, so We freed you from sorrow, and tested you to the maximum; you therefore stayed for several years among the people of Madyan; then you came (here) at an appointed time, O Moosa.”
(40) تیری بہن چلی پھر کہا کیا میں تمہیں وہ لوگ بتادوں جو اس بچہ کی پرورش کریں تو ہم تجھے تیری ماں کے پاس پھیر لائے کہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کرے اور تو نے ایک جان کو قتل کیا تو ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تجھے خوب جانچ لیا تُو تو کئی برس مدین والوں میں رہا پھر تو ایک ٹھہرائے وعدہ پر حاضر ہوا اے موسیٰ!
(41)وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ
(41) “And I created you especially for Myself.”
(41) اور میں نے تجھے خاص اپنے لیے بنایا
(42)اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ
(42) “You and your brother, both go with My signs, and do not slacken in My remembrance.”
(42) تو اور تیرا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا،
(43)اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىﭕ
(43) “Both of you go to Firaun; he has indeed rebelled.”
(43) دونوں فرعون کے پاس جاؤ بیشک اس نے سر اٹھایا،
(44)فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى
(44) “And speak to him courteously, that perhaps he may ponder or have some fear.”
(44) تو اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے
(45)قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى
(45) They both submitted, “Our Lord – indeed we fear that he may oppress us or deal mischievously.”
(45) دونوں نے عرض کیا، اے ہمارے رب! بیشک ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا شرارت سے پیش آئے،
(46)قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى
(46) He said, “Do not fear – I am with you, All Hearing and All Seeing.”
(46) فرمایا ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں سنتا اور دیکھتا
(47)فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ﳔ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْؕ-قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَؕ-وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى
(47) “Therefore go to him and say, ‘We are the sent ones of your Lord, therefore let the Descendants of Israel go with us, and do not trouble them; we have indeed brought to you a sign from your Lord; and peace be upon him who follows the guidance.’
(47) تو اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تو اولاد یعقوب کو ہمارے ساتھ چھوڑ دے اور انہیں تکلیف نہ دے بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے نشانی لائے ہیں اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے
(48)اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى
(48) ‘It has indeed been revealed to us that the punishment is upon the one who denies and turns away.’”
(48) بیشک ہماری طرف وحی ہوتی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے اور منہ پھیرے
(49)قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى
(49) Said Firaun, “So who is the Lord of you both, O Moosa?”
(49) بولا تو تم دونوں کا خدا کون ہے اے موسیٰ،
(50)قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى
(50) He said, “Our Lord is One Who gave everything its proper shape, then showed the path.”
(50) کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی پھر راہ دکھائی
(51)قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى
(51) Said Firaun, “What is the state of the former generations?”
(51) بولا اگلی سنگتوں (قوموں) کا کیا حال ہے
(52)قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍۚ-لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘
(52) He said, “Their knowledge is with my Lord, (recorded) in a Book; my Lord neither strays nor forgets.”
(52) کہا ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے میرا رب نہ بہکے نہ بھولے،
(53)الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًؕ-فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى
(53) The One Who has made the earth a bed for you and kept operative roads for you in it and sent down water from the sky; so with it We produced different pairs of vegetation.
(53) وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اور تمہارے لیے اس میں چلتی راہیں رکھیں اور آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس سے طرح طرح کے سبزے کے جوڑے نکالے
(54)كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠
(54) Eat, and graze your cattle; indeed in this are signs for people of intellect.
(54) تم کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چَراؤ بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو،
2ع54
(55)مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى
(55) From the earth We have created you, and to it We shall return you, and from it We shall raise you again.
(55) ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے
(56)وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى
(56) And indeed We showed him all Our signs – so he denied them and did not accept.
(56) اور بیشک ہم نے اسے اپنی سب نشانیاں دکھائیں تو اس نے جھٹلایا اور نہ مانا
(57)قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى
(57) He said, “Have you come to us in order to expel us from our land by your magic, O Moosa?”
(57) بولا کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اپنے جادو کے سبب ہماری زمین سے نکال دو اے موسیٰ
(58)فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى
(58) “So we will also produce before you a similar magic, therefore set up an agreed time between us and you, from which neither we nor you shall turn away, at a level place.”
(58) تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں گے تو ہم میں اور اپنے میں ایک وعدہ ٹھہرادو جس سے نہ ہم بدلہ لیں نہ تم ہموار جگہ ہو،
(59)قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى
(59) Said Moosa, “Your meeting is the day of the festival, and that the people be assembled at late morning.”
(59) موسیٰ نے کہا تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں
(60)فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى
(60) So Firaun went away and gathered his schemes,* then came. (* 72000 magicians and their materials.)
(60) تو فرعون پھرا اور اپنے داؤں (فریب) اکٹھے کیے پھر آیا
(61)قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍۚ-وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى
(61) Moosa said to them, “Ruin is to you – do not fabricate a lie against Allah, that He may destroy you by a punishment; and indeed one who fabricates lies has failed.”
(61) ان سے موسیٰ نے کہا تمہیں خرابی ہو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کردے اور بیشک نامراد رہا جس نے جھوٹ باندھا
(62)فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى
(62) So they differed with one another in their task, and secretly conferred.
(62) تو اپنے معاملہ میں باہم مختلف ہوگئے اور چھپ کر مشاورت کی،
(63)قَالُـوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى
(63) They said, “Undoubtedly these two are magicians for sure, who wish to expel you from your land by the strength of their magic, and destroy your exemplary religion!”
(63) بولے بیشک یہ دونوں ضرور جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری زمین زمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دیں اور تمہارا اچھا دین لے جائیں،
(64)فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّاۚ-وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى
(64) “Therefore strengthen your scheme, and come forth in rows; indeed whoever dominates this day has succeeded.”
(64) تو اپنا داؤ (فریب) پکا کرلو پھر پرا باندھ (صف باندھ) کر آ ؤ آج مراد کو پہنچا جو غالب رہا،
(65)قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى
(65) They said, “O Moosa, either you throw first – or shall we throw first?”
(65) بولے اے موسیٰ یا تو تم ڈالو یا ہم پہلے ڈالیں
(66)قَالَ بَلْ اَلْقُوْاۚ-فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى
(66) He said, “Rather, you may throw”; thereupon their cords and their staves, by the strength of their magic, appeared to him as if they were (serpents) moving fast.
(66) موسیٰ نے کہا بلکہ تمہیں ڈالو جبھی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں
(67)فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى
(67) And Moosa sensed fear in his heart.
(67) تو اپنے جی میں موسیٰ نے خوف پایا،
(68)قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى
(68) We said, “Do not fear – it is you who is dominant.”
(68) ہم نے فرمایا ڈر نہیں بیشک تو ہی غالب ہے،
(69)وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْاؕ-اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍؕ-وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى
(69) “And cast down which is in your right hand – it will devour all that they have fabricated; what they have made is only a magician’s deceit; and a magician is never successful, wherever he comes.”
(69) اور ڈال تو دے جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے اور ان کی بناوٹوں کو نگل جائے گا، وہ جو بناکر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا کہیں آوے
(70)فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُـوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى
(70) Therefore all the magicians were thrown down prostrate – they said, “We accept faith in the One Who is the Lord of Haroon and Moosa.”
(70) تو سب جادوگر سجدے میں گرالیے گئے بولے ہم اس پر ایمان لائے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے
(71)قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْؕ-اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَۚ-فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ٘-وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى
(71) Said Firaun, “You accepted faith in him before I permitted you! He is indeed your leader who taught you magic; I therefore swear, I will cut off your hands and your legs from alternate sides, and crucify you on the trunks of palm-trees, and you will surely come to know among us two, whose punishment is more severe and more lasting.”
(71) فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا تو مجھے قسم ہے ضرور میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا اور تمہیں کھجور کے ڈھنڈ (تنے) پر سُولی چڑھاؤں گا، اور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے
(72)قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍؕ-اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاﭤ
(72) They said, “We shall never prefer you above the clear proofs that have come to us from the One Who has created us – therefore carry out what you want to; only in the life of this world will you be able to!”
(72) بولے ہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے ان روشن دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ہمیں اپنے پیدا کرنے والے والے کی قسم تو تُو کر چُک جو تجھے کرنا ہے تو اس دنیا ہی کی زندگی میں تو کرے گا
(73)اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىٝ
(73) “Indeed we have accepted faith in our Lord, so that He may forgive us our sins and the magic which you forced us to perform; and Allah is Better, and the Most Lasting.”
(73) بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں بخش دے اور وہ جو تو نے ہمیں مجبور کیا جادو پر اور ا لله بہتر ہے اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا
ثلاثة
(74)اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَؕ-لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى
(74) Indeed the one who comes guilty to his Lord – so undoubtedly for him is hell; neither dying nor living in it.
(74) بیشک جو اپنے رب کے حضور مجرم ہوکر آئے تو ضرور اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ مرے نہ جئے
(75)وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ
(75) And the one who presents himself as a believer before Him, having done good deeds – so for them are the high ranks.
(75) اور جو اس کے حضور ایمان کے ساتھ آئے کہ اچھے کام کیے ہوں تو انہیں کے درجے اونچے،
(76)جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠
(76) Everlasting Gardens of Eden beneath which rivers flow, abiding in them for ever; and this is the reward of one who became pure.
(76) بسنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں، اور یہ صلہ ہے اس کا جو پاک ہوا
3ع76
(77)وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى ﳔ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًاۙ-لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى
(77) And We divinely inspired Moosa that, “Journey with My bondmen in a part of the night and strike a dry path in the sea for them, you shall have no fear of Firaun getting to you, nor any danger.”
(77) اور بیشک ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے چل اور ان کے لیے دریا میں سوکھا راستہ نکال دے تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون آلے اور نہ خطرہ
(78)فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْﭤ
(78) So Firaun went after them with his army – therefore the sea enveloped them, the way it did.
(78) تو ان کے پیچھے فرعون پڑا اپنے لشکر لے کر تو انہیں دریا نے ڈھانپ لیا جیسا ڈھانپ لیا،
(79)وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى
(79) And Firaun led his people astray, and did not guide them.
(79) اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور راہ نہ دکھائی
(80)یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى
(80) O Descendants of Israel, indeed We rescued you from your enemy, and We made a covenant with you on the right side of Mount Tur, and sent down Manna and Salwa upon you.
(80) اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تمہیں طور کی داہنی طرف کا وعدہ دیا اور تم پر من اور سلوی ٰ اتارا
(81)كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْۚ-وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى
(81) “Eat the good clean things We have provided you, and do not exceed the limits in respect of it causing My wrath to descend upon you; and indeed the one on whom My wrath descended, has fallen.”
(81) کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں اور اس میں زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترا بیشک وہ گرا
(82)وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى
(82) And indeed I am Most Oft Forgiving for him who repented and accepted faith and did good deeds, and then remained upon guidance.
(82) اور بیشک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا
(83)وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى
(83) “And why did you come in haste ahead of your people, O Moosa?”
(83) اور تو نے اپنی قوم سے کیوں جلدی کی اے موسیٰ
(84)قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى
(84) He submitted, “They are here, just behind me – and O my Lord, I hastened towards You, in order to please You.”
(84) عرض کی کہ وہ یہ ہیں میرے پیچھے اور اے میرے رب تیری طرف میں جلدی کرکے حاضر ہوا کہ تو راضی ہو،
(85)قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ
(85) He said, “We have therefore tried your people after you came, and Samri has led them astray.”
(85) فرمایا، تو ہم نے تیرے آنے کے بعد تیری قوم بلا میں ڈالا اور انہیں سامری نے گمراہ کردیا،
(86)فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ﳛ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا۬ؕ-اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ
(86) So Moosa turned back to his people, angry and grieving; he said, “O my people, had not your Lord given you a good promise? Did a long time pass away for you, or did you wish that your Lord’s wrath come upon you, therefore you broke your promise with me?”
(86) تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا افسوس کرتا کہا اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہ تھا کیا تم پر مدت لمبی گزری یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اترے تو تم نے میرا وعدہ خلاف کیا
(87)قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ
(87) They said, “We did not renege on our promise to you on our own will, but we were made to carry the burdens of ornaments of the people, so we cast them – and similarly did Samri cast.”
(87) بولے ہم نے آپ کا وعدہ اپنے اختیار سے خلاف نہ کیا لیکن ہم سے کچھ بوجھ اٹھوائے گئے اس قوم کے گہنے کے تو ہم نے انہیں ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈالا
(88)فَاَخْرَ جَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى۬-فَنَسِیَﭤ
(88) He therefore made a calf for them – a lifeless body, making sounds like a cow – so they said, “This is your God and the God of Moosa; whereas Moosa has forgotten.”
(88) تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا بے جان کا دھڑ گائے کی طرح بولتا یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ کا معبود تو بھول گئے
(89)اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِـعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا ﳔ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠
(89) So do they not see that it does not answer to any of their speech? And has no power to cause them any harm or benefit?
(89) تو کیا نہیں دیکھتے کہ وہ انہیں کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور ان کے سوا کسی برے بھلے کا اختیار نہیں رکھتا
4ع89
(90)وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖۚ-وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ
(90) And undoubtedly Haroon had told them before it that, “O my people – you have needlessly fallen into trial because of this; and indeed your Lord is the Most Gracious, therefore follow me and obey my command.”
(90) اور بیشک ان سے ہارون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اے میری قوم یونہی ہے کہ تم اس کے سبب فتنے میں پڑے اور بیشک تمہارا رب رحمن ہے تو میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو،
(91)قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِـعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى
(91) They said, “We will continue to squat* before it, till Moosa returns to us.” (* Continue worshipping it.)
(91) بولے ہم تو اس پر آسن مارے جمے (پوجا کے لیے بیٹھے) رہیں گے جب تک ہمارے پاس موسیٰ لوٹ کے آئیں
(92)قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْاۙ
(92) Said Moosa, “O Haroon – what prevented you when you saw them going astray?”
(92) موسیٰ نے کہا، اے ہارون! تمہیں کس بات نے روکا تھا جب تم نے انہیں گمراہ ہوتے دیکھا تھا کہ میرے پیچھے آتے
(93)اَلَّا تَتَّبِعَنِؕ-اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ
(93) “That you did not come after me? So did you disobey my order?”
(93) تو کیا تم نے میرا حکم نہ مانا،
(94)قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْۚ-اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ
(94) He said, “O son of my mother, do not clutch my beard nor the hair on my head; I feared that you may say, ‘You have caused a division among the Descendants of Israel and did not wait for my advice.’”
(94) کہا اے میرے ماں جائے! نہ میری ڈاڑھی پکڑو اور نہ میرے سر کے بال مجھے یہ ڈر ہوا کہ تم کہو گے تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور تم نے میری بات کا انتظار نہ کیا
(95)قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ
(95) Said Moosa, “And what is your explanation, O Samri?”
(95) موسیٰ نے کہا اب تیرا کیا حال ہے اے سامری!
(96)قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ
(96) He said, “I witnessed what the people did not witness – I therefore took a handful from the tracks* of the angel, then threw it** – and this is what seemed pleasing to my soul.” (* The marks left behind by the mount of Angel Jibreel. ** Into the mouth of the calf.)
(96) بولا میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا تو ایک مٹھی بھر لی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا اور میرے جی کو یہی بھلا لگا
(97)قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ۪-وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗۚ-وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًاؕ-لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا
(97) Said Moosa, “Therefore go away, for in this life your punishment is that you exclaim ‘Do not touch!’* And indeed for you is a time appointed, which you cannot break; and look at your deity, in front of which you remained squatting the whole day; we swear we will surely burn it and, smashing it into bits, discharge it into the river.” (* He was cursed with a disease.)
(97) کہا تو چلتا بن کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ تو کہے چھو نہ جا اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے جو تجھ سے خلاف نہ ہوگا اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو دن بھر آسن مارے (پوجا کے لیے بیٹھا) رہا قسم ہے ہم ضرور اسے جلائیں گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہائیں گے
(98)اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا
(98) “Your God is only Allah – other than for Whom there is no worship; His knowledge encompasses all things.”
(98) تمہارا معبود تو وہی اللہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہر چیز کو اس کا علم محیط ہے،
(99)كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَۚ-وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ
(99) This is how We relate the former tidings to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and We have given you a Remembrance* from Ourselves. (*The Holy Qur’an.)
(99) ہم ایسا ہی تمہارے سامنے اگلی خبریں بیان فرماتے ہیں اور ہم نے تم کو اپنے پاس سے ایک ذکر عطا فرمایا
(100)مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ
(100) Whoever turns away from it, will bear a burden on the Day of Resurrection.
(100) جو اس سے منہ پھیرے تو بیشک وہ قیامت کے دن ایک بوجھ اٹھائے گا
(101)خٰلِدِیْنَ فِیْهِؕ-وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ
(101) They will remain in it forever – what an evil burden it will be for them on the Day of Resurrection!
(101) وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ قیامت کے دن ان کے حق میں کیا ہی بڑا بوجھ ہوگا،
(102)یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَىٕذٍ زُرْقًاۚۖ
(102) On the day when the Trumpet is blown and We shall assemble the guilty on that day, blue -eyed.
(102) جس دن صُور پھونکا جائے گا اور ہم اس دن مجرموں کو اٹھائیں گے نیلی آنکھیں
(103)یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا
(103) Whispering secretly among themselves, “You have not stayed on earth but for ten days.”
(103) آپس میں چپکے چپکے کہتے ہوں گے کہ تم دنیا میں نہ رہے مگر دس رات
(104)نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠
(104) We know well what they will utter, whereas the wisest among them will say, “You have stayed just for a day.”
(104) ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہیں گے جبکہ ان میں سب سے بہتر رائے والا کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن رہے تھے
5ع104
(105)وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ
(105) They ask you regarding the mountains; proclaim, “My Lord will blow them into bits and scatter them.”
(105) اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا،
(106)فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ
(106) “Therefore leaving the earth just as an empty plain.”
(106) تو زمین کو پٹ پر (چٹیل میدان) ہموار کر چھوڑے گا
(107)لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاﭤ
(107) “In which you shall neither see ups nor downs.”
(107) کہ تو اس میں نیچا اونچا کچھ نہ دیکھے،
(108)یَوْمَىٕذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗۚ-وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا
(108) On that day they will run after a caller, there will be no deviation in it; and voices shall become hushed before the Most Gracious, so you will not hear except a faint sound.
(108) اس دن پکارنے والے کے پیچھے دوڑیں گے اس میں کجی نہ ہوگی اور سب آوازیں رحمن کے حضو ر پست ہوکر رہ جائیں گی تو تُو نہ سنے گا مگر بہت آہستہ آواز
(109)یَوْمَىٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا
(109) On that day no one’s intercession shall benefit except his to whom the Most Gracious has given permission and whose word He has liked. (The Holy Prophets and virtuous people will be given the permission to intercede. Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – will be the first to intercede.)
(109) اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی، مگر اس کی جسے رحمن نے اذن دے دیا ہے اور اس کی بات پسند فرمائی،
(110)یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا
(110) He knows all that is before them and all that is behind them, whereas their knowledge cannot encompass it.
(110) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور ان کا علم اسے نہیں گھیر سکتا
(111)وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِؕ-وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا
(111) And all faces shall bow before the Living, the All Sustaining; and the one who bore the burden of injustice, has failed.
(111) اور سب منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے حضور اور بیشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا
(112)وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا
(112) And the one who does some good deeds, and is a Muslim – he shall have no fear of injustice, nor suffer any loss.
(112) اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا
(113)وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا
(113) And this is how We revealed it as an Arabic Qur’an, and in different ways gave promises of punishment, that they may fear or it may create some pondering in their hearts.
(113) اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن اتارا اور اس میں طرح طرح سے عذاب کے وعدے دیے کہ کہیں انہیں ڈر ہو یا ان کے دل میں کچھ سوچ پیدا کرے
(114)فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّۚ-وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ٘-وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا
(114) Therefore Supreme is Allah, the True King; and do not hasten in the Qur’an (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) until its divine revelation has been completed to you; and pray, “My Lord, bestow me more knowledge.”
(114) تو سب سے بلند ہے ا لله سچا بادشاہ اور قرآن میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تمہیں پوری نہ ہولے اور عرض کرو کہ اے میرے رب! مجھے علم زیادہ دے،
(115)وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠
(115) And indeed before this We made a covenant with Adam, so he forgot, and We did not find its intention (in him).
(115) اور بیشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا قصد نہ پایا،
6ع115
(116)وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى
(116) And when We commanded the angels, “Prostrate before Adam” – so they all prostrated, except Iblis; he refused.
(116) اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدہ میں گرے مگر ابلیس، اس نے نہ مانا،
(117)فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى
(117) We therefore said, “O Adam, he is your and your wife’s enemy, so may he not get you both out from heaven, so you then fall into hardship.”
(117) تو ہم نے فرمایا، اے آدم! بیشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہے تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے
(118)اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْ عَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ
(118) “Indeed for you in heaven is that you may never be hungry nor be unclothed.”
(118) بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو اور نہ ننگا ہو،
(119)وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى
(119) “And that you never feel thirsty nor hot sunshine hurt you.”
(119) اور یہ کہ تجھے نہ اس میں پیاس لگے نہ دھوپ
(120)فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى
(120) So the devil incited him, saying, “O Adam, shall I show you the tree of immortality and a kingdom that does not erode?”
(120) تو شیطان نے اسے وسوسہ دیا بولا، اے آدم! کیا میں تمہیں بتادوں ہمیشہ جینے کا پیڑ اور وہ بادشاہی کہ پرانی نہ پڑے
(121)فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ٘-وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ
(121) So they both ate from it – thereupon their shame became manifest to them, and they started applying on themselves the leaves of heaven; and Adam lapsed in obeying his Lord, so did not reach his goal. (Of achieving immortality)
(121) تو ان دونوں نے اس میں سے کھالیا اب ان پر ان کی شرم کی چیزیں ظاہر ہوئیں اور جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی
(122)ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى
(122) Then his Lord chose him, and inclined towards him with His mercy, and guided him.
(122) پھر اس کے رب نے چن لیا تو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائی اور اپنے قرب خاص کی راہ دکھائی،
(123)قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى ﳔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى
(123) He said, “Both of you go down from heaven, one of you is an enemy to the other; then if the guidance from Me comes to you – then whoever follows My guidance, will not go astray nor be ill-fated.”
(123) فرمایا تم دونوں مل کر جنت سے اترو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے، پھر اگر تم سب کو میری طرف سے ہدایت آئے، تو جو میری ہدایت کا پیرو ہو ا وہ نہ بہکے نہ بدبخت ہو
(124)وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى
(124) “And the one who turned away from My remembrance – for him is a confined existence, and We shall raise him blind on the Day of Resurrection.”
(124) اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے،
(125)قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا
(125) He will say, “O my Lord, why have You raised me blind, whereas I was sighted?”
(125) کہے گا اے رب میرے! مجھے تو نے کیوں اندھا اٹھایا میں تو انکھیارا (بینا) تھا
(126)قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَاۚ-وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى
(126) He will say, “Similarly did Our signs come to you but you forgot them; and in the same way, nobody will heed you today.”
(126) فرمائے گا یونہی تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تھیں تو نے انہیں بھلادیا اور ایسے ہی آج تیری کوئی نہ لے گا
(127)وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖؕ-وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى
(127) And this is how We reward him who transgresses and does not accept faith in the signs of his Lord; and indeed the punishment of the Hereafter is the most severe and more lasting.
(127) اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں جو حد سے بڑھے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت تر اور سب سے دیرپا ہے،
(128)اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠
(128) So did they not gain guidance from (knowing) how many generations We have destroyed before them, among whose dwellings they walk? Indeed in it are signs for men of intellect.
(128) تو کیا انہیں اس سے راہ نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک کردیں کہ یہ ان کے بسنے کی جگہ چلتے پھرتے ہیں بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو
7ع128
(129)وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىﭤ
(129) And had not a command of your Lord been passed, then the punishment would have gripped them – and had a term not been appointed.
(129) اور اگر تمہارے رب کی ایک بات نہ گزر چکی ہوتی تو ضرور عذاب انھیں لپٹ جاتا اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ ٹھہرایا ہوا
(130)فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَاۚ-وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى
(130) Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), patiently forbear upon their speech, and praising your Lord proclaim His Purity, before the sun rises and before it sets; and proclaim His Purity at some times of the night and at the two ends of the day, in the hope that you be pleased. (*With the great reward from your Lord)
(130) تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے اور رات کی گھڑیوں میں اس کی پاکی بولو اور دن کے کناروں پر اس امید پر کہ تم راضی ہو
(131)وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ-وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى
(131) And O listener, do not extend your eyes towards what We have given to disbelieving couples to enjoy – the bloom of the worldly life – so that We may test them with it; and the sustenance of your Lord is the best, and more lasting.
(131) اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لیے دی ہے جتنی دنیا کی تازگی کہ ہم انہیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں اور تیرے رب کا رزق سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے،
(132)وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَاؕ-لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًاؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكَؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى
(132) And command your household to establish prayer, and yourself be steadfast in it; We do not ask any sustenance from you; We will provide you sustenance; and the excellent result is for piety.
(132) اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ، کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے ہم تجھے روزی دیں گے اور انجام کا بھلا پرہیزگاری کے لیے،
(133)وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى
(133) And the disbelievers said, “Why does he not bring to us a sign from his Lord?”; did not the explanation of what is in the former Books, come to them?
(133) اور کافر بولے یہ اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے اور کیا انہیں اس کا بیان نہ آیا جو اگلے صحیفوں میں ہے
(134)وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِـعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى
(134) And had We destroyed them with some punishment before the advent of a Noble Messenger, they would have certainly said, “Our Lord, why did You not send a Noble Messenger to us, so we would have followed Your signs, before being humiliated and disgraced?”
(134) اور اگر ہم انہیں کسی عذاب سے ہلاک کردیتے رسول کے آنے سے پہلے تو ضرور کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں پر چلتے قبل اس کے کہ ذلیل و رسوا ہوتے،
(135)قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْاۚ-فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠
(135) Proclaim, “Each one is waiting; so you too wait; very soon you will come to know who are the people of the right path, and who has attained guidance.”
(135) تم فرماؤ سب راہ دیکھ رہے ہیں تو تم بھی راہ دیکھو تو اب جان جاؤ گے کہ کون ہیں سیدھی راہ والے اور کس نے ہدایت پائی،