My Bookmarks
Surah:
Para:
Ruku:
Arabic
Urdu
English
Ayat:30سورة الملك (مکی)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِPara: 29Ruku: 2
(1)تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ٘- وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُﰳۙ
(1) Most Auspicious is He in Whose control is the entire kingship; and He is Able to do all things.
(1) بڑی برکت والا ہے وہ جس کے قبضہ میں سارا ملک اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،
(2)الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ
(2) The One Who created death and life to test you – who among you has the better deeds; and He only is the Most Honourable, the Oft Forgiving.
(2) وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے اور وہی عزت والا بخشش والا ہے،
(3)الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاؕ-مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍؕ-فَارْجِـعِ الْبَصَرَۙ-هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ
(3) The One Who created the seven heavens atop each other; do you see any discrepancy in the creation of the Most Gracious? Therefore lift your gaze – do you see any cracks?
(3) جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا، تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے تو نگاہ اٹھا کر دیکھ تجھے کوئی رخنہ نظر آتا ہے،
(4)ثُمَّ ارْجِـعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ
(4) Then lift your gaze again, your gaze will return towards you, unsuccessful and weak.
(4) پھر دوبارہ نگاہ اٹھا نظر تیری طرف ناکام پلٹ آئے گی تھکی ماندی
(5)وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
(5) And indeed We have beautified the lower heaven with lamps, and have made them weapons against the devils, and have kept prepared for them the punishment of the blazing fire.
(5) اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کے لیے مار کیا اور ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار فرمایا
(6)وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ
(6) And for those who disbelieved in their Lord, is the punishment of hell; and what a wretched outcome!
(6) اور جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور کیا ہی برا انجام،
(7)اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ
(7) They will hear it hissing when they will be thrown into it, and it is boiling.
(7) جب اس میں ڈالے جائیں گے اس کا رینکنا (چنگھاڑنا) سنیں گے کہ جوش مارتی ہے
(8)تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِؕ-كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ
(8) As if about to explode with rage; whenever a group is thrown into it, the guardians of hell will ask them, “Did not a Herald of Warning come to you?”
(8) معلوم ہوتا ہے کہ شدت غضب میں پھٹ جائے گی، جب کبھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا اس کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا تھا
(9)قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ ﳔ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ ۚۖ-اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ
(9) They will say, “Yes, why not – indeed a Herald of Warning did come to us – in response we denied and said ‘Allah has not sent down anything – you are not except in a great error’.”
(9) کہیں گے کیوں نہیں بیشک ہمارے پاس ڈر سنانے والے تشریف لائے پھر ہم نے جھٹلایا اور کہا اللہ نے کچھ نہیں اُتارا، تم تو نہیں مگر بڑی گمراہی میں،
(10)وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
(10) And they will say, “Had we listened or understood, we would not have been among the people of hell.”
(10) اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو دوزخ والوں میں نہ ہوتے،
(11)فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْۚ-فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
(11) So now they admit their sins! Therefore accursed be the people of hell!
(11) اب اپنے گناہ کا اقرار کیا تو پھٹکار ہو دوزخیوں کو،
(12)اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
(12) Indeed for those who fear their Lord without seeing is forgiveness, and a great reward.
(12) بیشک جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے
(13)وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
(13) And whether you speak softly or proclaim it aloud; He indeed knows what lies within the hearts!
(13) اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے، وہ تو دلوں کی جانتا ہے
(14)اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَؕ-وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠
(14) What! Will He Who has created not know? Whereas He knows every detail, the All Aware!
(14) کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبردار،
1ع14
(15)هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖؕ-وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
(15) It is He Who subjected the earth for you, therefore tread its paths and eat from Allah’s sustenance; and towards Him is the resurrection.
(15) وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین رام (تابع) کر دی تو اس کے رستوں میں چلو اور اللہ کی روزی میں سے کھاؤ اور اسی کی طرف اٹھنا ہے
(16)ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
(16) Have you become unafraid of the One Who controls the heavens, that He will not cause you to sink into the earth when it trembles?
(16) کیا تم اس سےنڈر ہوگئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسادے جبھی وہ کانپتی رہے
(17)اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًاؕ-فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ
(17) Or have you become unafraid of the One Who controls the heavens, that He will not send a torrent of stones upon you? So now you will realise, how My warning turned out!
(17) یا تم نڈر ہوگئے اس سے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تم پر پتھراؤ بھیجے تو اب جانو گے کیسا تھا میرا ڈرانا،
(18)وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ
(18) And indeed those before them had denied – therefore how did My rejection turn out!
(18) اور بیشک ان سے اگلوں نے جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکار
(19)اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَﰉ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُؕ-اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ
(19) And did they not see the birds above them, spreading and closing their wings? None except the Most Gracious holds them up; indeed He sees all things.
(19) اور کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندے نہ دیکھے پر پھیلاتے اور سمیٹتے انہیں کوئی نہیں روکتا سوا رحمٰن کے بیشک وہ سب کچھ دیکھتا ہے،
(20)اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِؕ-اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ
(20) Or which army do you have that will help you against the Most Gracious? The disbelievers are in nothing except an illusion.
(20) یا وہ کونسا تمہارا لشکر ہے کہ رحمٰن کے مقابل تمہاری مدد کرے کافر نہیں مگر دھوکے میں
(21)اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗۚ-بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ
(21) Or who is such that will give you sustenance if Allah stops His sustenance? In fact they persist in rebellion and hatred.
(21) یا کونسا ایسا ہے جو تمہیں روزی دے اگر وہ اپنی روزی روک لے بلکہ وہ سرکش اور نفرت میں ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں
(22)اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
(22) So is one who walks inverted upon his face more rightly guided, or one who walks upright on the Straight Path?
(22) تو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے سیدھی راہ پر
(23)قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ كُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـٕدَةَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
(23) Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “It is He Who created you, and made ears and eyes and hearts for you; very little thanks do you offer!”
(23) تم فرماؤ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے کتنا کم حق مانتے ہو
(24)قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ
(24) Say, “It is He Who has spread you out in the earth, and towards Him you will be raised.”
(24) تم فرماؤ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف اٹھائے جاؤ گے
(25)وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
(25) And they say, “When will this promise come, if you are truthful?”
(25) اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو،
(26)قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ۪-وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
(26) Proclaim, “Surely Allah has its knowledge; and I am only a Herald of plain warning.”
(26) تم فرماؤ یہ علم تو اللہ کے پاس ہے، اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں
(27)فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓــٴَـتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ
(27) So when they will see it close, the faces of the disbelievers will become ghastly, and it will be declared, “This is what you were demanding.”
(27) پھر جب اسے پاس دیکھیں گے کافروں کے منہ بگڑ جائیں گے اور ان سے فرمادیا جائے گا یہ ہے جو تم مانگتے تھے
(28)قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَاۙ-فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
(28) Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “What is your opinion –Allah may either destroy me and those with me, or have mercy on us – so who is such that will protect the disbelievers from the painful punishment?”
(28) تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو بلاک کردے یا ہم پر رحم فرمائے تو وہ کونسا ہے جو کافروں کو دکھ کے عذاب سے بچالے گا
(29)قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَاۚ-فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
(29) Proclaim, “He only is the Most Gracious – we have accepted faith in Him and have relied only upon Him; so you will now realise who is in open error.”
(29) تم فرماؤ وہی رحمٰن ہے ہم اس پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ کیا، تو اب جان جاؤ گے کون کھلی گمراہی میں ہے،
(30)قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠
(30) Say, “What is your opinion – if in the morning all your water were to sink into the earth, then who is such who can bring you water flowing before you?”
(30) تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں دھنس جائے تو وہ کون ہے جو تمہیں پانی لادے نگاہ کے سامنے بہتا
2ع30
Ayat:52سورة القلم (مکی)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِPara: 29Ruku: 2
(1)نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ
(1) Nuun* – by oath of the pen and by oath of what is written by it. (Alphabet of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
(1) قلم اور ان کے لکھے کی قسم
(2)مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ
(2) You are not insane, by the munificence of your Lord.
(2) تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں
(3)وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ
(3) And indeed for you is an unlimited reward.
(3) اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہے
(4)وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ
(4) And indeed you possess an exemplary character.
(4) اور بیشک تمہاری خُو بُو (خُلق) بڑی شان کی ہے
(5)فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ
(5) So very soon, you will see and they too will realise –
(5) تو اب کوئی دم جاتا ہے کہ تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے
(6)بِاَیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ
(6) - That who among you was insane.
(6) کہ تم میں کون مجنون تھا،
(7)اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ۪-وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ
(7) Indeed your Lord well knows those who have strayed from His path, and He well knows those who are upon guidance.
(7) بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکے، اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر ہے،
(8)فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ
(8) Therefore do not listen to the deniers.
(8) تو جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا،
(9)وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ
(9) They wish that in some way you may yield, so they too might soften their stand.
(9) وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑجائیں،
(10)وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ
(10) Nor ever listen to any excessive oath maker, ignoble person.
(10) اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل
(11)هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ
(11) The excessively insulting one, spreader of spite.
(11) بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا
(12)مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ
(12) One who excessively forbids the good, transgressor, sinner.
(12) بھلائی سے بڑا روکنے والا حد سے بڑھنے والا گنہگار
(13)عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ
(13) Foul mouthed, and in addition to all this, of improper lineage.
(13) درشت خُو اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا
(14)اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَﭤ
(14) Because he* has some wealth and sons. (Walid bin Mugaira, who cursed the Holy Prophet.)
(14) اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے،
(15)اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ
(15) When Our verses are recited to him, he says, “These are stories of earlier people.”
(15) جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں
(16)سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ
(16) We will soon singe his pig-nose.
(16) قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے
(17)اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِۚ-اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ
(17) We have indeed tested them the way We had tested the owners of the garden when they swore that they would reap its harvest the next morning.
(17) بیشک ہم نے انہیں جانچا جیسا اس باغ والوں کو جانچا تھا جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کھیت کو کاٹ لیں گے
(18)وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ
(18) And they did not say, “If Allah wills”.
(18) اور انشاء اللہ نہ کہا
(19)فَطَافَ عَلَیْهَا طَآىٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآىٕمُوْنَ
(19) So an envoy from your Lord completed his round upon the garden, whilst they were sleeping.
(19) تو اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک پھیری کرنے والا پھیرا کر گیا اور وہ سوتے تھے،
(20)فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ
(20) So in the morning it became as if harvested.
(20) تو صبح رہ گیا جیسے پھل ٹوٹا ہوا
(21)فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ
(21) They then called out to each other at daybreak.
(21) پھر انہوں نے صبح ہوتے ایک دوسرے کو پکارا،
(22)اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ
(22) That, “Go to your fields at early morn, if you want to harvest.”
(22) کہ تڑکے اپنی کھیتی چلو اگر تمہیں کاٹنی ہے،
(23)فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ
(23) So they went off, while whispering to one another.
(23) تو چلے اور آپس میں آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے کہ
(24)اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ
(24) “Make sure that no needy person enters your garden this day.”
(24) ہرگز آج کوئی مسکین تمہارے باغ میں آنے نہ پائے،
(25)وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ
(25) And they left at early morn, assuming they were in control of their purpose.
(25) اور تڑکے چلے اپنے اس ارادہ پر قدرت سمجھتے
(26)فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ
(26) Then when they saw it, they said, “We have indeed strayed.”
(26) پھر جب اسے بولے بیشک ہم راستہ بہک گئے
(27)بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ
(27) “In fact, we are unfortunate.”
(27) بلکہ ہم بے نصیب ہوئے
(28)قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ
(28) The best among them said, “Did I not tell you, ‘Why do you not proclaim His purity?’”
(28) ان میں جو سب سے غنیمت تھا بولا کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ تسبیح کیوں نہیں کرتے
(29)قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ
(29) They said, “Purity is to our Lord – we have indeed been unjust.”
(29) بولے پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہم ظالم تھے،
(30)فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ
(30) So they came towards each other, blaming.
(30) اب ایک دوسرے کی طرف ملامت کرتا متوجہ ہوا
(31)قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ
(31) They said, “Woe to us – we were indeed rebellious.”
(31) بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم سرکش تھے
(32)عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ
(32) “Hopefully, our Lord will give us a better replacement than this – we now incline towards our Lord.”
(32) امید ہے ہمیں ہمارا رب اس سے بہتر بدل دے ہم اپنے رب کی طرف رغبت لاتے ہیں
(33)كَذٰلِكَ الْعَذَابُؕ-وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠
(33) Such is the punishment; and indeed the punishment of the Hereafter is the greatest, if only they knew!
(33) مار ایسی ہوتی ہے اور بیشک آخرت کی مار سب سے بڑی، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے
1ع33
(34)اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ
(34) Indeed for the pious, with their Lord, are Gardens of Serenity.
(34) بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس چین کے باغ ہیں
(35)اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَﭤ
(35) Shall We equate the Muslims to the guilty?
(35) کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کا سا کردیں
(36)مَا لَكُمْٙ-كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ
(36) What is the matter with you? What sort of a judgement you impose!
(36) تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو
(37)اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ
(37) Is there a Book for you, from which you read?
(37) کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے اس میں پڑھتے ہو،
(38)اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ
(38) - That for you in it is whatever you like?
(38) کہ تمہارے لیے اس میں جو تم پسند کرو،
(39)اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ-اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ
(39) Or is it that you have a covenant from Us, right up to the Day of Judgement, that you will get all what you claim?
(39) یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں قیامت تک پہنچتی ہوئی کہ تمہیں ملے گا جو کچھ دعویٰ کرتے ہو
(40)سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ
(40) Ask them, who among them is a guarantor for it?
(40) تم ان سے پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے
(41)اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُۚۛ-فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآىٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ
(41) Or is it that they have partners in worship? So they should bring their appointed partners, if they are truthful.
(41) یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں تو اپنے شریکوں کو لے کر آئیں اگر سچے ہیں
(42)یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ
(42) On the day when the Shin* will be exposed and they will be called to prostrate themselves, they will be unable. (Used as a metaphor)
(42) جس دن ایک ساق کھولی جائے گی (جس کے معنی اللہ ہی جانتا ہے) اور سجدہ کو بلائے جائیں گے تو نہ کرسکیں گے
(43)خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌؕ-وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ
(43) With lowered eyes, disgrace overcoming them; and indeed they used to be called to prostrate themselves whilst they were healthy.
(43) نیچی نگاہیں کیے ہوئے ان پر خواری چڑھ رہی ہوگی، اور بیشک دنیا میں سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے جب تندرست تھے
(44)فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِؕ-سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ
(44) Therefore leave the one who denies this matter, to Me; We shall soon steadily take them away, from a place they do not know.
(44) تو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی،
(45)وَ اُمْلِیْ لَهُمْؕ-اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ
(45) And I will give them respite; indeed My plan is very solid.
(45) اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے
(46)اَمْ تَسْــٴَـلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ
(46) Or is it that you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) ask any fee from them, so they are burdened with the penalty?
(46) یا تم ان سے اجرت مانگتے ہو کہ وہ چٹی کے بوجھ میں دبے ہیں
(47)اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ
(47) Or that they possess the hidden, so they are writing it?
(47) یا ان کے پاس غیب ہے کہ وہ لکھ رہے ہیں
(48)فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌﭤ
(48) Therefore wait for your Lord’s command, and do not be like the one of the fish; who cried out when he was distraught. (Prophet Yunus – peace be upon him.)
(48) تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر و اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا
(49)لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ
(49) Were it not for his Lord’s favour that reached him, he would have surely been cast onto the desolate land, reproached.
(49) اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا
(50)فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ
(50) His Lord therefore chose him and made him among those deserving His proximity.
(50) تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے سزاواروں (حقداروں) میں کرلیا،
(51)وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌﭥ
(51) And indeed the disbelievers seem as if they would topple you with their evil gaze when they hear the Qur’an, and they say, “He is indeed insane.”
(51) اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں گرادیں گے جب قرآن سنتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ضرور عقل سے دور ہیں،
(52)وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ٛ
(52) Whereas it is not but an advice to the entire creation!
(52) اور وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہاں کے لیے
ربع2ع52
Ayat:52سورة الحاقة (مکی)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِPara: 29Ruku: 2
(1)اَلْحَآقَّةُۙ
(1) The true event!
(1) وہ حق ہونے والی
(2)مَا الْحَآقَّةُۚ
(2) How tremendous is the true event!
(2) کیسی وہ حق ہونے والی
(3)وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُﭤ
(3) And what have you understood, how tremendous the true event is!
(3) اور تم نے کیا جانا کیسی وہ حق ہونے والی
(4)كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ
(4) The tribes of Thamud and A’ad denied the event of great dismay. (The Day of Resurrection)
(4) ثمود اور عاد نے اس سخت صدمہ دینے والی کو جھٹلایا،
(5)فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ
(5) So regarding the Thamud, they were destroyed by a terrible scream.
(5) تو ثمود تو ہلاک کیے گئے حد سے گزری ہوئی چنگھاڑ سے
(6)وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ
(6) And as for A’ad, they were destroyed by a severe thundering windstorm.
(6) اور رہے عاد وہ ہلاک کیے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے،
(7)سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍۙ-حُسُوْمًاۙ-فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰىۙ-كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ
(7) He forced it upon them with strength, consecutively for seven nights and eight days – so you would see those people overthrown in it, like trunks of date palms fallen down.
(7) وہ ان پر قوت سے لگادی سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں دیکھو بچھڑے ہوئے گویا وہ کھجور کے ڈھنڈ (سوکھے تنے) ہیں گرے ہوئے،
(8)فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ
(8) So do you see any survivor among them?
(8) تو تم ان میں کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو
(9)وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ
(9) And Firaun, and those before him, and the dwellings that were inverted and thrown, had brought error.
(9) اور فرعون اور اس سے اگلے اور الٹنے والی بستیاں خطا لائے
(10)فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً
(10) They therefore disobeyed the Noble Messengers of their Lord – so He seized them with an intense seizure.
(10) تو انہوں نے اپنے رب کے رسولوں کا حکم نہ مانا تو اس نے انہیں بڑھی چڑھی گرفت سے پکڑا،
(11)اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ
(11) Indeed when the water swelled up, We boarded you onto the ship.
(11) بیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھا ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا
(12)لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ
(12) In order to make it a remembrance for you, and in order that the ears that store may remember.
(12) کہ اسے تمہارے لیے یادگار کریں اور اسے محفوظ رکھے وہ کان کہ سن کر محفوظ رکھتا ہو
(13)فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ
(13) So when the Trumpet will be blown, with a sudden single blow.
(13) پھرجب صور پھونک دیا جائے ایک دم،
(14)وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً
(14) And the earth and the mountains will be lifted up and crushed with a single crush.
(14) اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعتا ً چُورا کردیے جائیں،
(15)فَیَوْمَىٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ
(15) So that is the day when the forthcoming event will occur.
(15) وہ دن ہے کہ ہو پڑے گی وہ ہونے والی
(16)وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَىٕذٍ وَّاهِیَةٌۙ
(16) And the heaven will split asunder – so on that day it will be unstable.
(16) اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن اس کا پتلا حال ہوگا
(17)وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآىٕهَاؕ-وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَىٕذٍ ثَمٰنِیَةٌﭤ
(17) And the angels will be on its sides; and on that day, eight angels will carry the Throne of your Lord above them.
(17) اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے
(18)یَوْمَىٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ
(18) On that day all of you will be brought forth, so none among you wishing to hide will be able to hide.
(18) اس دن تم سب پیش ہو گے کہ تم میں کوئی چھپنے والی جان چھپ نہ سکے گی،
(19)فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ-فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ
(19) So whoever is given his book in his right hand – he will say, “Take, read my account!”
(19) تو وہ جو اپنا نامہٴ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا لو میرے نامہٴ اعمال پڑھو،
(20)اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ
(20) “I was certain that I will confront my account.”
(20) مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا
(21)فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ
(21) He is therefore in the desired serenity.
(21) تو وہ من مانتے چین میں ہے،
(22)فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ
(22) In a lofty Garden –
(22) بلند باغ میں،
(23)قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ
(23) The fruit clusters of which are hanging down.
(23) جس کے خوشے جھکے ہوئے
(24)كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــٴًـۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ
(24) “Eat and drink with pleasure – the reward of what you sent ahead, in the past days.”
(24) کھاؤ اور پیو رچتا ہوا صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں میں آگے بھیجا
(25)وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ ﳔ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ
(25) And whoever is given his book in his left hand – he will say, “Alas, if only my account were not given to me!”
(25) اور وہ جو اپنا نامہٴ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا ہائے کسی طرح مجھے اپنا نوشتہ نہ دیا جاتا،
(26)وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ
(26) “And had never come to know my account!”
(26) اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے،
(27)یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ
(27) “Alas, if only it had been just death.”
(27) ہائے کسی طرح موت ہی قصہ چکا جاتی
(28)مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ
(28) “My wealth did not in the least benefit me.”
(28) میرے کچھ کام نہ آیا میرا مال
(29)هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ
(29) “All my power has vanished.”
(29) میرا سب زور جاتا رہا
(30)خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ
(30) It will be said, “Seize him, and shackle him.”
(30) اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو
(31)ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ
(31) “Then hurl him into the blazing fire.”
(31) پھر اسے بھڑکتی آگ میں دھنساؤ،
(32)ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُﭤ
(32) “Then bind him inside a chain which is seventy arm-lengths.”
(32) پھر ایسی زنجیر میں جس کا ناپ ستر ہاتھ ہے اسے پُرو دو
(33)اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ
(33) “Indeed he refused to accept faith in Allah, the Greatest.”
(33) بیشک وہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہ لاتا تھا
(34)وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِﭤ
(34) “And did not urge to feed the needy.”
(34) اور مسکین کو کھانے دینے کی رغبت نہ دیتا
(35)فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ
(35) “So he does not have any friend here this day.”
(35) تو آج یہاں اس کا کوئی دوست نہیں
(36)وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ
(36) “Nor any food except the pus discharged from the people of hell.”
(36) اور نہ کچھ کھانے کو مگر دوزخیوں کا پیپ،
(37)لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـــٴُـوْنَ۠
(37) “Which none except the guilty shall eat.”
(37) اسے نہ کھائیں گے مگر خطاکار
1ع37
(38)فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ
(38) So by oath of the things you see.
(38) تو مجھے قسم ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو،
(39)وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ
(39) And by oath of those you do not see.
(39) اور جنہیں تم نہیں دیکھتے
(40)اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍﳐ
(40) This Qur’an is the speech of Allah with a gracious Noble Messenger.
(40) بیشک یہ قرآن ایک کرم والے رسول سے باتیں ہیں
(41)وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍؕ-قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ
(41) And it is not the speech of a poet; how little do you believe!
(41) اور وہ کسی شاعر کی بات نہیں کتنا کم یقین رکھتے ہو
(42)وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَﭤ
(42) Nor is it the speech of a soothsayer; how little do you ponder!
(42) اور نہ کسی کاہن کی بات کتنا کم دھیان کرتے ہو
(43)تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ
(43) Sent down by the Lord Of The Creation.
(43) اس نے اتارا ہے جو سارے جہان کا رب ہے،
(44)وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ
(44) And had he fabricated just one matter upon Us –
(44) اور اگر وہ ہم پر ایک بات بھی بنا کر کہتے
(45)لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ
(45) We would have definitely taken revenge from him.
(45) ضرور ہم ان سے بقوت بدلہ لیتے،
(46)ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ٘ ۖ
(46) Then would have cut off his heart’s artery.
(46) پھر ان کی رگِ دل کاٹ دیتے
(47)فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ
(47) Then none among you would be his saviour.
(47) پھر تم میں کوئی ان کا بچانے والا نہ ہوتا،
(48)وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ
(48) And indeed this Qur’an is an advice for the pious.
(48) اور بیشک یہ قرآن ڈر والوں کو نصیحت ہے،
(49)وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ
(49) And indeed We know that some among you are deniers.
(49) اور ضرور ہم جانتے ہیں کہ تم کچھ جھٹلانے والے ہیں،
(50)وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ
(50) And indeed it is a despair for the disbelievers.
(50) اور بیشک وہ کافروں پر حسرت ہے
(51)وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ
(51) And indeed it is a certain Truth.
(51) اور بیشک وہ یقین حق ہے
(52)فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠
(52) Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), proclaim the purity of your Lord, the Greatest.
(52) تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کی پاکی بولو
2ع52
Ayat:44سورة المعارج (مکی)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِPara: 29Ruku: 2
(1)سَاَلَ سَآىٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ
(1) A requester seeks the punishment that will take place –
(1) ایک مانگنے والا وہ عذاب مانگتا ہے،
(2)لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ
(2) - Upon the disbelievers – the punishment that none can avert.
(2) جو کافروں پر ہونے والا ہے، اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں،
(3)مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِﭤ
(3) From Allah, the Lord of all pinnacles.
(3) وہ ہوگا اللہ کی طرف سے جو بلندیوں کا مالک ہے
(4)تَعْرُجُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ
(4) The angels and Jibreel, ascend towards Him – the punishment will befall on a day which spans fifty thousand years.
(4) ملائکہ اور جبریل اس کی بارگاہ کی طرف عروج کرتے ہیں وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے
(5)فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا
(5) Therefore patiently endure, in the best manner (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him).
(5) تو تم اچھی طرح صبر کرو،
(6)اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ
(6) They deem it to be remote.
(6) وہ اسے دور سمجھ رہے ہیں
(7)وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاﭤ
(7) Whereas We see it impending.
(7) اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں
(8)یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ
(8) The day when the sky will be like molten silver.
(8) جس دن آسمان ہوگا جیسی گلی چاندی،
(9)وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ
(9) And the hills will be light as wool.
(9) اور پہاڑ ایسے ہلکے ہوجائیں گے جیسے اون
(10)وَ لَا یَسْــٴَـلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاﭕ
(10) And no friend will ask concerning his friend.
(10) اور کوئی دوست کسی دوست کی بات نہ پوچھے گا
(11)یُّبَصَّرُوْنَهُمْؕ-یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِىٕذٍۭ بِبَنِیْهِۙ
(11) They will be seeing them; the guilty will wish if only he could redeem himself from the punishment of that day, by offering his sons.
(11) ہوں گے انہیں دیکھتے ہوئے مجرم آرزو کرے گا، کاش! اس دن کے عذاب سے چھٹنے کے بدلے میں دے دے اپنے بیٹے،
(12)وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ
(12) And his wife and his brother.
(12) اور اپنی جورو اور اپنا بھائی،
(13)وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُــٴْـوِ یْهِۙ
(13) And the family in which he was.
(13) اور اپنا کنبہ جس میں اس کی جگہ ہے،
(14)وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۙ-ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ
(14) And all those who are in the earth – then only if the redemption saves him!
(14) اور جتنے زمین میں ہیں سب پھر یہ بدلہ دنیا اسے بچالے،
(15)كَلَّاؕ-اِنَّهَا لَظٰىۙ
(15) Never! That is indeed a blazing fire.
(15) ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی آگ ہے،
(16)نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىﭕ
(16) A fire that melts the hide.
(16) کھال اتار لینے والی بلارہی ہے
(17)تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ
(17) It calls out to him who reverted and turned away.
(17) اس کو جس نے پیٹھ دی اور منہ پھیرا
(18)وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى
(18) And accumulated wealth and hoarded it.
(18) اور جوڑ کر سینت رکھا (محفوظ کرلیا)
(19)اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ
(19) Indeed man is created very impatient, greedy.
(19) بیشک آدمی بنایا گیا ہے بڑا بے صبرا حریص،
(20)اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ
(20) Very nervous when touched by misfortune.
(20) جب اسے برائی پہنچے تو سخت گھبرانے والا،
(21)وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ
(21) And refraining, when good reaches him.
(21) اور جب بھلائی پہنچے تو روک رکھنے والا
(22)اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ
(22) Except those who establish prayer.
(22) مگر نمازی،
(23)الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآىٕمُوْنَﭪ
(23) Those who are regular in their prayers.
(23) جو اپنی نماز کے پابند ہیں
(24)وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌﭪ
(24) And those in whose wealth exists a recognised right,
(24) اور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے
(25)لِّلسَّآىٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِﭪ
(25) For those who beg, and for the needy who cannot even ask.
(25) اس کے لیے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے
(26)وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِﭪ
(26) And those who believe the Day of Judgement to be true.
(26) اور ہو جو انصاف کا دن سچ جانتے ہیں
(27)وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ
(27) And those who fear the punishment of their Lord.
(27) اور وہ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈر رہے ہیں،
(28)اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ
(28) Indeed the punishment of their Lord is not a thing to be unafraid of!
(28) بیشک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں
(29)وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ
(29) And those who protect their private organs (from adultery).
(29) اور ہو جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں،
(30)اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ
(30) Except with their wives and the bondwomen in their possession, for there is no reproach on them.
(30) مگر اپنی بیبیوں یا اپنے ہاتھ کے مال کنیزوں سے کہ ان پر کچھ ملامت نہیں،
(31)فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ
(31) So those who desire more than this – it is they who are the transgressors.
(31) تو جو ان دو کے سوا اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں
(32)وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَﭪ
(32) And those who protect the property entrusted to them, and their agreements.
(32) اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں
(33)وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآىٕمُوْنَﭪ
(33) And those who are firm upon their testimonies.
(33) اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم ہیں
(34)وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَﭤ
(34) And those who protect their prayers.
(34) اور وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں
(35)اُولٰٓىٕكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَؕ۠
(35) It is these who will be honoured in Gardens.
(35) یہ ہیں جن کا باغوں میں اعزاز ہوگا
1ع35
(36)فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ
(36) So what is the matter with these disbelievers, that they stare at you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him)?
(36) تو ان کافروں کو کیا ہوا تمہاری طرف تیز نگاہ سے دیکھتے ہیں
(37)عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ
(37) From the right and the left, in groups?
(37) داہنے اور بائیں گروہ کے گروہ،
(38)اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ
(38) Does every man among them aspire to be admitted into the Garden of serenity?
(38) کیا ان میں ہر شخص یہ طمع کرتا ہے کہ چین کے باغ میں داخل کیا جائے،
(39)كَلَّاؕ-اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ
(39) Never! We have indeed created them from a thing they know.
(39) ہرگز نہیں، بیشک ہم نے انہیں اس چیز سے بنایا جسے جانتے ہیں
(40)فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ
(40) So I swear by the Lord of every East and every West, that We are indeed Able.
(40) تو مجھے قسم ہے اس کی جو سب پُوربوں سب پچھموں کا مالک ہے کہ ضرور ہم قادر ہیں،
(41)عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْۙ-وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ
(41) To replace them by those better than them; and none can escape from Us.
(41) کہ ان سے اچھے بدل دیں اور ہم سے کوئی نکل کر نہیں جاسکتا
(42)فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَۙ
(42) Therefore leave them, involved in their indecencies and play, till they confront their day which they are promised.
(42) تو انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگیوں میں پڑے اور کھیلتے ہوئے یہاں تک کہ اپنے اس دن سے ملیں جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے،
(43)یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ
(43) A day when they will come out of the graves in haste, as if rushing towards their goals.
(43) جس دن قبروں سے نکلیں گے جھپٹتے ہوئے گویا وہ نشانیوں کی طرف لپک رہے ہیں
(44)خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌؕ-ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠
(44) With lowered eyes, disgrace overcoming them; this is the day, which they had been promised.
(44) آنکھیں نیچی کیے ہوئے ان پر ذلت سوار، یہ ہے ان کا وہ دن جس کا ان سے وعدہ تھا
2ع44
Ayat:28سورة نوح (مکی)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِPara: 29Ruku: 2
(1)اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
(1) Indeed We sent Nooh towards his people saying that, “Warn your people before the painful punishment comes upon them.”
(1) بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ ان کو ڈرا اس سے پہلے کہ ان پر دردناک عذاب آئے
(2)قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ
(2) He said, “O my people! I am indeed a Herald of clear warnings to you.”
(2) اس نے فرمایا اے میری قوم! میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،
(3)اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ
(3) “That you must worship Allah and fear Him, and obey me.”
(3) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
(4)یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُۘ-لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
(4) “He will forgive you some of your sins, and give you respite up to an appointed term; indeed the promise of Allah cannot be averted when it arrives; if only you knew.”
(4) وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے گا اور ایک مقرر میعاد تک تمہیں مہلت دے گا بیشک اللہ کا وعدہ جب آتا ہے ہٹایا نہیں جاتا کسی طرح تم جانتے
(5)قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ
(5) He said, “My Lord! I invited my people night and day.”
(5) عرض کی اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن بلایا
(6)فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا
(6) “So for them, my calling them increased their fleeing away.”
(6) تو میرے بلانے سے انہیں بھاگنا ہی بڑھا
(7)وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ
(7) “And whenever I called them, so that You may forgive them, they always thrust their fingers into their ears, and covered themselves with their clothes, and remained stubborn and were extremely haughty.”
(7) اور میں نے جتنی بار انہیں بلایا کہ تو ان کو بخشے انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور ہٹ کی اور بڑا غرور کیا
(8)ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ
(8) “I then called them openly.”
(8) پھر میں نے انہیں علانیہ بلایا
(9)ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ
(9) “Then I also told them publicly and also spoke to them softly in private.”
(9) پھر میں نے ان سے با علان بھی کہا اور آہستہ خفیہ بھی کہا
(10)فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ
(10) “I therefore told them, ‘Seek forgiveness from your Lord; He is indeed Most Forgiving.’
(10) تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے
(11)یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ
(11) ‘He will send down abundant rain for you from the sky.’
(11) تم پر شراٹے کا (موسلا دھار) مینھ بھیجے گا،
(12)وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاﭤ
(12) ‘And will aid you with wealth and sons, and will create gardens for you and cause rivers to flow for you.’
(12) اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا
(13)مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ
(13) ‘What is the matter with you, that you do not desire honour from Allah?’
(13) تمہیں کیا ہوا اللہ سے عزت حاصل کرنے کی امید نہیں کرتے
(14)وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا
(14) ‘Whereas it is He Who created you in different stages?’
(14) حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح بنایا
(15)اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ
(15) ‘Do you not see how Allah has created the seven heavens atop each other?’
(15) کیا تم نہیں دیکھتے اللہ نے کیونکر سات آسمان بنائے ایک پر ایک،
(16)وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا
(16) ‘And in them, has illuminated the moon, and made the sun a lamp?’
(16) اور ان میں چاند کو روشن کیا اور سورج کو چراغ
(17)وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ
(17) ‘And it is Allah Who made you grow like vegetation from the earth.’
(17) اور اللہ نے تمہیں سبزے کی طرح زمین سے اُگایا
(18)ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا
(18) ‘And He will then take you back to it, and again remove you from it.”
(18) پھر تمہیں اسی میں لے جائے گا اور دبارہ نکالے گا
(19)وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ
(19) ‘And it is Allah Who made the earth a bed for you.’
(19) اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا،
(20)لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠
(20) ‘So that you may tread the wide roads in it.’”
(20) کہ اس کے وسیع راستوں میں چلو،
1ع20
(21)قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ
(21) Prayed Nooh, “O my Lord! They have disobeyed me, and they follow the one whose wealth and children increase nothing for him except ruin.”
(21) نوح نے عرض کی، اے میرے رب! انہوں نے میری نافرمانی کی اور ایسے کے پیچھے ہولیے جیسے اس کے مال اور اولاد نے نقصان ہی بڑھایا
(22)وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ
(22) “And they carried out a very sinister scheme.”
(22) اور بہت بڑا داؤ ں کھیلے
(23)وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا ﳔ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ
(23) “And they said, ‘Do not ever abandon your Gods – and never abandon Wadd, or Suwa – or Yaghuth or Yauq or Nasr.’”
(23) اور بولے ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو اور ہرگز نہ چھوڑنا ودّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو
(24)وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا ﳛ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا
(24) “And they have misled a large number; and (I pray that) You increase nothing for the unjust except error.”
(24) اور بیشک انہوں نے بہتوں کو بہکایا اور تو ظالموں کو زیادہ نہ کرنا مگر گمراہی
(25)مِمَّا خَطِیْٓــٴٰـتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا ﳔ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا
(25) Because of their sins they were drowned and then put into the fire; so they did not find any supporter for themselves against Allah. (Punishment in the grave is proven by this verse.)
(25) اپنی کیسی خطاؤں پر ڈبوئے گئے پھر آگ میں داخل کیے گئے تو انہوں نے اللہ کے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پایا
(26)وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا
(26) And prayed Nooh, “O my Lord! Do not leave any of the disbelievers dwelling in the land.”
(26) اور نوح نے عرض کی، اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ،
(27)اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا
(27) “Indeed, if You spare them, they will mislead your bondmen – and their descendants, if any, will be none except the wicked, very ungrateful.”
(27) بیشک اگر تو انہیں رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور ان کے اولاد ہوگی تو وہ بھی نہ ہوگی مگر بدکار بڑی ناشکر
(28)رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ-وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًاٜ۠
(28) “O my Lord! Forgive me, and my parents, and the believers who are in my house, and all other Muslim men and Muslim women; and do not increase anything for the unjust except ruin.”
(28) اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو، اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی
نصف2ع28
Ayat:28سورة الجن (مکی)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِPara: 29Ruku: 2
(1)قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ
(1) Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I have received the divine revelation that some jinns attentively listened to my recitation, so they said, ‘We have heard a unique Qur’an.’
(1) تم فرماؤ مجھے وحی ہوئی کہ کچھ جنوں نے میرا پڑھنا کان لگا کر سنا تو بولے ہم نے ایک عجیب قرآن سنا
(2)یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖؕ-وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ
(2) ‘That guides to the path of goodness, we have therefore accepted faith in it; and we shall never ascribe anyone as a partner to our Lord.’
(2) کہ بھلائی کی راہ بتا تا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے، اور ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہ کریں گے،
(3)وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ
(3) ‘And that our Lord’s Majesty is Supreme – He has neither chosen a wife nor a child.’
(3) اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے نہ اس نے عورت اختیار کی اور نہ بچہ
(4)وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ
(4) ‘And that the fool among us used to utter false exaggerations against Allah.’
(4) اور یہ کہ ہم میں کا بے وقوف اللہ پر بڑھ کر بات کہتا تھا
(5)وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ
(5) ‘Whereas we thought that men and jinns would never fabricate a lie against Allah!’
(5) اور یہ کہ ہمیں خیال تھا کہ ہرگز آدمی اور جِن اللہ پر جھوٹ نہ باندھیں گے
(6)وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ
(6) ‘And indeed some men among humans used to take the protection of some men among jinns, so it further increased their haughtiness.’
(6) اور یہ کہ آدمیوں میں کچھ مرد جنوں کے کچھ مردوں کے پناہ لیتے تھے تو اس سے اور بھی ان کا تکبر بڑھا،
(7)وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ
(7) ‘And that they assumed, like you humans assume, that Allah would not send any Noble Messenger.’
(7) اور یہ کہ انہوں نے گمان کیا جیسا تمہیں گمان ہے کہ اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا،
(8)وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ
(8) ‘And we reached the sky, so we found it strongly guarded and filled with comets.’
(8) اور یہ کہ ہم نے آسمان کو چھوا تو اسے پایا کہ سخت پہرے اور آگ کی چنگاریوں سے بھردیا گیا ہے
(9)وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِؕ-فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ
(9) ‘And that we sometimes used to sit in some places in the sky, to listen; so whoever now listens finds a fiery comet waiting for him.’
(9) اور یہ کہ ہم پہلے آسمان میں سننے کے لیے کچھ موقعوں پر بیٹھا کرتے تھے، پھر اب جو کوئی سنے وہ اپنی تاک میں آگ کا لُوکا (لپٹ) پائے
(10)وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ
(10) ‘And we do not know whether harm is intended for those on the earth, or whether their Lord intends goodness for them.’
(10) اور یہ کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والوں سے کوئی برائی کا ارادہ فرمایا گیا ہے یا ان کے نے کوئی بھلائی چاہی ہے،
(11)وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَؕ-كُنَّا طَرَآىٕقَ قِدَدًاۙ
(11) ‘And among us some are virtuous and some are the other type; we are split into several branches.’
(11) اور یہ کہ ہم میں کچھ نیک ہیں اور کچھ دوسری طرح کے ہیں، ہم کئی راہیں پھٹے ہوئے ہیں
(12)وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ
(12) ‘And we are certain that we cannot defeat Allah in the earth, nor can we run out of His grasp.’
(12) اور یہ کہ ہم کو یقین ہوا کہ ہر گز زمین اللہ کے قابو سے نہ نکل سکیں گے اور نہ بھاگ کر اس کے قبضہ سے باہر ہوں،
(13)وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖؕ-فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ
(13) ‘And that when we heard the guidance, we accepted faith in it; so whoever accepts faith in his Lord, has no fear – neither of any loss nor of any injustice.’
(13) اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت سنی اس پر ایمان لائے، تو جو اپنے رب پر ایمان لائے اسے نہ کسی کمی کا خوف اور نہ زیادگی کا
(14)وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَؕ-فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓىٕكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا
(14) ‘And that some among us are Muslims and some are the unjust; and whoever has accepted Islam – it is they who have thought rightly.’
(14) اور یہ کہ ہم میں کچھ مسلمان ہیں اور کچھ ظالم تو جو اسلام لائے انہوں نے بھلائی سوچی
(15)وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ
(15) ‘And as for the unjust – they are the fuel of hell.’”
(15) اور رہے ظالم وہ جہنم کے ایندھن ہوئے
(16)وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ
(16) And proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I have received the divine revelation that ‘Had they remained upright on the straight path, We would have given them abundant water.’
(16) اور فرماؤ کہ مجھے یہ وحی ہوئی ہے کہ اگر وہ راہ پر سیدھے رہتے تو ضرور ہم انہیں وافر پانی دیتے
(17)لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ-وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ
(17) ‘In order to test them with it; and whoever turns away from the remembrance of his Lord – He will put him in a punishment that keeps on increasing.’
(17) کہ اس پر انہیں جانچیں اور جو اپنے رب کی یاد سے منہ پھیرے وہ اسے چڑھتے عذاب میں ڈالے گا
(18)وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ
(18) ‘And that the mosques are for Allah only – therefore do not worship anyone along with Allah.’
(18) اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کی بندگی نہ کرو
(19)وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًاؕ۠
(19) ‘And that when Allah’s bondman stood up to worship Him, the jinns had almost crowded upon him.’”
(19) اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کی بندگی کرنے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ جن اس پر ٹھٹھ کے ٹھٹھ ہوجائیں
1ع19
(20)قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا
(20) Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I worship only Allah, and I do not ascribe any partner to Him.”
(20) تم فرماؤ میں تو اپنے رب ہی کی بندگی کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتا،
(21)قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا
(21) Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I am not the master of any harm or benefit for you.”
(21) تم فرماؤ میں تمہارے کسی برے بھلے کا مالک نہیں،
(22)قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ﳔ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ
(22) Say, “No one will ever save me from Allah, and other than Him, I will not find any refuge.”
(22) تم فرماؤ ہرگز مجھے اللہ سے کوئی نہ بچائے گا اور ہرگز اس کے سوا کوئی پناہ نہ پاؤں گا،
(23)اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاﭤ
(23) “I only convey the commands from Allah, and His messages; and whoever disobeys the commands of Allah and His Noble Messenger – then indeed for him is the fire of hell, in which they will remain for ever and ever.”
(23) مگر اللہ کے پیام پہنچاتا اور اس کی رسالتیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے تو بیشک ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں،
(24)حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا
(24) Till the time when they will see what they are promised – so they will now come to know whose aide is weak, and who is lesser in number.
(24) یہاں تک کہ جب دیکھیں گے جو وعدہ دیا جاتا ہے تو اب جان جائیں گے کہ کس ک مددگار کمزور اور کس کی گنتی کم
(25)قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا
(25) Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I do not know whether what you are promised is close or if my Lord will postpone it for a while.”
(25) تم فرماؤ میں نہیں جانتا آیا نزدیک ہے وہ جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے یا میرا رب اسے کچھ وقفہ دے گا
(26)عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ
(26) The All Knowing of all the hidden does not give anyone the control over His secrets.
(26) غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا
(27)اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ
(27) Except to His chosen Noble Messengers – so He appoints guards in front and behind him. (Allah gave the knowledge of the hidden to the Holy Prophet – peace and blessings be upon him.)
(27) سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرر کر دیتا ہے
(28)لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠
(28) In order to see that they have conveyed the messages of their Lord – and His knowledge encompasses all whatever they have, and He has kept all things accounted for.
(28) تا کہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیام پہنچا دیے اور جو کچھ ان کے پاس سب اس کے علم میں ہے اور اس نے ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھی ہے
2ع28
Ayat:20سورة المزمل (مکی)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِPara: 29Ruku: 2
(1)یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ
(1) O the One Wrapped in piety! (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him)
(1) اے جھرمٹ مارنے والے
(2)قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ
(2) Stand up for worship during the night, except for some part of it.
(2) رات میں قیام فرما سوا کچھ رات کے
(3)نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ
(3) For half the night, or reduce some from it.
(3) آدھی رات یا اس سے کچھ تم کرو،
(4)اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاﭤ
(4) Or increase a little upon it, and recite the Qur’an slowly in stages.
(4) یا اس پر کچھ بڑھاؤ اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو
(5)اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا
(5) Indeed We shall soon ordain a heavy responsibility upon you.
(5) بیشک عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں گے
(6)اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاﭤ
(6) Indeed getting up in the night is tougher, and the words flow with strength.
(6) بیشک رات کا اٹھنا وہ زیادہ دباؤ ڈالتا ہے اور بات خوب سیدھی نکلتی ہے
(7)اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاﭤ
(7) Indeed you have a lot of matters during the day.
(7) بیشک دن میں تو تم کو بہت سے کام ہیں
(8)وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاﭤ
(8) And remember the name of your Lord and, leaving others, devote yourself solely to Him.
(8) اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہو
(9)رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا
(9) Lord of the East and Lord of the West – there is no God except Him, therefore make Him your sole Trustee of affairs.
(9) وہ پورب کا رب اور پچھم کا رب اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ
(10)وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا
(10) And patiently endure upon what the disbelievers say, and leave them for good.
(10) اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ اور انہیں اچھی طرح چھوڑ دو
(11)وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا
(11) And leave them to Me – these wealthy deniers – and give them some respite.
(11) اور مجھ پر چھوڑو ان جھٹلانے والے مالداروں کو اور انہیں تھوڑی مہلت دو
(12)اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ
(12) Indeed We have heavy fetters and a blazing fire.
(12) بیشک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ،
(13)وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ
(13) And food that chokes, and a painful punishment.
(13) اور گلے میں پھنستا کھانا اور دردناک عذاب
(14)یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا
(14) On a day when the earth and the mountains will tremble, and the mountains turn into dunes of flowing sand.
(14) جس دن تھرتھرائیں گے زمین اور پہاڑ اور پہاڑ ہوجائیں گے ریتے کا ٹیلہ بہتا ہوا،
(15)اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا ﳔ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاﭤ
(15) We have indeed sent a Noble Messenger towards you, a present witness over you – the way We had sent a Noble Messenger towards Firaun.
(15) بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجے کہ تم پر حاضر ناظر ہیں جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجے
(16)فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا
(16) In response Firaun disobeyed the Noble Messenger, so We seized him with a severe seizure.
(16) تو فرعون نے اس رسول کا حکم نہ مانا تو ہم نے اسے سخت گرفت سے پکڑا،
(17)فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖﰳ
(17) So how will you save yourselves, if you disbelieve, on a day that will turn children old?
(17) پھر کیسے بچو گے اگر کفر کرو اس دن جو بچوں کو بوڑھا کردے گا
(18)السَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖؕ-كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا
(18) The heaven will split asunder with its grief; the promise of Allah will surely occur.
(18) آسمان اس کے صدمے سے پھٹ جائے گا، اللہ کا وعدہ ہوکر رہنا،
(19)اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌۚ-فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠
(19) This is indeed an advice; so whoever wishes may take the path towards his Lord.
(19) بیشک یہ نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ لے
1ع19
(20)اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآىٕفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَؕ-وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَؕ-عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِؕ-عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰىۙ-وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِۙ-وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ﳲ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُۙ-وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًاؕ-وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًاؕ-وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠
(20) Indeed your Lord knows that you stand up in prayer, sometimes almost two-thirds of the night, and sometimes half the night or sometimes a third of it – and also a group of those along with you; Allah keeps measure of the night and day; He knows that you, O Muslims, will not be able to measure the night, so He has inclined towards you with mercy – therefore recite from the Qur’an as much as is easy for you; He knows that soon some of you will fall ill, and some will travel in the land seeking the munificence of Allah, and some will be fighting in Allah’s cause; therefore recite from the Qur’an as much as is easy for you, and establish prayer and pay the obligatory charity, and lend an excellent loan to Allah; and whatever good you send ahead for yourselves, you will find it with Allah, better and having a great reward; and seek forgiveness from Allah; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
(20) بیشک تمہارا رب جانتا ہے کہ تم قیام کرتے ہو کبھی دو تہائی رات کے قریب، کبھی آدمی رات، کبھی تہائی اور ایک جماعت تمہارے ساتھ والی اور اللہ رات اور دن کا اندازہ فرماتا ہے، اسے معلوم ہے کہ اے مسلمانو! تم سے رات کا شمار نہ ہوسکے گا تو اس نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی اب قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اتنا پڑھو اسے معلوم ہے کہ عنقریب کچھ تم میں سے بیمار ہوں گے اور کچھ زمین میں سفر کریں گے اللہ کا فضل تلاش کرنے اور کچھ اللہ کی راہ میں لڑتے ہوں گے تو جتنا قرآن میسر ہو پڑھو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ کو اچھا قرض دو اور اپنے لیے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور بڑے ثواب کی پاؤ گے، اور اللہ سے بخشش مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
2ع20
Ayat:56سورة المدثر (مکی)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِPara: 29Ruku: 2
(1)یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ
(1) O the Cloaked One! (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him)
(1) اے بالا پوش اوڑھنے والے!
(2)قُمْ فَاَنْذِرْﭪ
(2) Rise up and warn!
(2) کھڑے ہوجاؤ پھر ڈر سناؤ
(3)وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْﭪ
(3) And proclaim the Purity of your Lord.
(3) اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو
(4)وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْﭪ
(4) And keep your clothes clean.
(4) اور اپنے کپڑے پاک رکھو
(5)وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْﭪ
(5) And stay away from idols.
(5) اور بتوں سے دور رہو،
(6)وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُﭪ
(6) And do not favour others in order to receive more.
(6) اور زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو
(7)وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْﭤ
(7) And for the sake of your Lord, patiently endure.
(7) اور اپنے رب کے لیے صبر کیے رہو
(8)فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ
(8) So when the Trumpet will be blown.
(8) پھر جب صور پھونکا جائے گا
(9)فَذٰلِكَ یَوْمَىٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ
(9) So that is a tough day.
(9) تو وہ دن کڑا (سخت) دن ہے،
(10)عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ
(10) Not easy upon the disbelievers.
(10) کافروں پر آسان نہیں
(11)ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ
(11) Leave him to Me, the one whom I created single.
(11) اسے مجھ پر چھوڑ جسے میں نے اکیلا پیدا کیا
(12)وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ
(12) And gave him vast wealth.
(12) اور اسے وسیع مال دیا
(13)وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ
(13) And gave him sons present before him.
(13) اور بیٹے دیے سامنے حاضر رہتے
(14)وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ
(14) And made several preparations for him.
(14) اور میں نے اس کے لیے طرح طرح کی تیاریاں کیں
(15)ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَﭪ
(15) Yet he desires that I should give more.
(15) پھر یہ طمع کرتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں
(16)كَلَّاؕ-اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاﭤ
(16) Never! For he is an enemy to Our signs!
(16) ہرگز نہیں وہ تو میری آیتوں سے عناد رکھتا ہے،
(17)سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاﭤ
(17) Soon I shall mount him on Saood, the hill of fire.
(17) قریب ہے کہ میں اسے آگ کے پہاڑ صعود پر چڑھاؤں،
(18)اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ
(18) Indeed he thought, and inwardly decided.
(18) بیشک وہ سوچا اور دل میں کچھ بات ٹھہرائی
(19)فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ
(19) So accursed be he, how evilly did he decide!
(19) تو اس پر لعنت ہو کیسی ٹھہرائی،
(20)ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ
(20) Again accursed be he, how evilly did he decide!
(20) پھر اس پر لعنت ہو کیسی ٹھہرائی،
(21)ثُمَّ نَظَرَۙ
(21) He then dared to lift his gaze.
(21) پھر نظر اٹھا کر دیکھا،
(22)ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ
(22) Then frowned and grimaced.
(22) پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا،
(23)ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ
(23) Then he turned away, and was haughty.
(23) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا،
(24)فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ
(24) And said, “This is nothing but magic learnt from earlier men.”
(24) پھر بولا یہ تو وہی جادو ہے اگلوں سے سیکھا،
(25)اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِﭤ
(25) “This is nothing but the speech of a man.”
(25) یہ نہیں مگر آدمی کا کلام
(26)سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ
(26) I will soon fling him into hell.
(26) کوئی دم جاتا ہے کہ میں اسے دوزخ میں دھنساتا ہوں،
(27)وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُﭤ
(27) And what have you understood, what hell is!
(27) اور تم نے کیا جانا دوزخ کیا ہے،
(28)لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ
(28) It neither leaves, nor spares.
(28) نہ چھوڑے نہ لگی رکھے
(29)لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِﭕ
(29) It strips away the hide of man.
(29) آدمی کی کھال اتار لیتی ہے
(30)عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَﭤ
(30) Above it are nineteen guards.
(30) اس پر اُنیس داروغہ ہیں
(31)وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىٕكَةً۪-وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْاۙ-لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ-وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًاؕ-كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَؕ-وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠
(31) We have not appointed the guards of hell, except angels; and did not keep this number except to test the disbelievers – in order that the People given the Book(s) may be convinced, and to increase the faith of the believers – and so that the People given the Book(s) and the Muslims may not have any doubt – and so that those in whose hearts is a disease and the disbelievers, may say, “What does Allah mean by this amazing example?” This is how Allah sends astray whomever He wills, and guides whomever He wills; and no one knows the armies of Allah except Him; and this is not but an advice to man.
(31) اور ہم نے دوزخ کے داروغہ نہ کیے مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی یہ گنتی نہ رکھی مگر کافروں کی جانچ کو اس لیے کہ کتاب والوں کو یقین آئے اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے اور کتاب والوں اور مسلمانوں کو کوئی شک نہ رہے اور دل کے روگی (مریض) اور کافر کہیں اس اچنبھے کی بات میں اللہ کا کیا مطلب ہے، یونہی اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ تو نہیں مگر آدمی کے لیے نصیحت،
1ع31
(32)كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ
(32) Yes, never!* By oath of the moon. (Hell will never spare the disbelievers).
(32) ہاں ہاں چاند کی قسم،
(33)وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ
(33) And by oath of the night when it turns back.
(33) اور رات کی جب پیٹھ پھیرے،
(34)وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ
(34) And by oath of the morning, when it spreads light.
(34) اور صبح کی جب اجا لا ڈالے
(35)اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ
(35) Indeed hell is one of the greatest entities.
(35) بیشک دوزخ بہت بڑی چیزوں میں کی ایک ہے،
(36)نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ
(36) Warn the men.
(36) آدمیوں کو ڈراؤ،
(37)لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَﭤ
(37) For the one among you who wishes to come forward or stay back.
(37) اسے جو تم میں چاہے، کہ آگے آئے یا پیچھے رہے
(38)كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ
(38) Every soul is mortgaged for its own deeds.
(38) ہر جان اپنی کرنی (اعمال) میں گروی ہے،
(39)اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ
(39) Except those on the right side.
(39) مگر دہنی طرف والے
(40)فِیْ جَنّٰتٍﰈ یَتَسَآءَلُوْنَۙ
(40) In Gardens, they seek answers,
(40) باغوں میں پوچھتے ہیں،
(41)عَنِ الْمُجْرِمِیْنَۙ
(41) - From the guilty.
(41) مجرموں سے،
(42)مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ
(42) “What took you into the hell?”
(42) تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی،
(43)قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ
(43) They said, “We never used to offer the prayer.”
(43) وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے،
(44)وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ
(44) “Nor used to feed the needy.”
(44) اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے
(45)وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىٕضِیْنَۙ
(45) “And used to dwell on evil matters with those who think evilly.”
(45) اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے،
(46)وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِۙ
(46) “And used to deny the Day of Justice.”
(46) اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے،
(47)حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْیَقِیْنُﭤ
(47) “Till death overcame us.”
(47) یہاں تک کہ ہمیں موت آئی،
(48)فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَﭤ
(48) So the intercession of the intercessors will not benefit them. (The disbelievers will not have any intercessor.)
(48) تو انہیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی
(49)فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَۙ
(49) So what is the matter with them that they turn away from the advice?
(49) تو انہیں کیا ہوا نصیحت سے منہ پھیرتے ہیں
(50)كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ
(50) As if they were startled donkeys –
(50) گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں،
(51)فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍﭤ
(51) Fleeing away from a lion.
(51) کہ شیر سے بھاگے ہوں
(52)بَلْ یُرِیْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ
(52) Rather each one of them desires that he should be given open Books.
(52) بلکہ ان میں کا ہر شخص چاہتا ہے کہ کھلے صحیفے اس کے ہاتھ میں دے دیے جائیں
(53)كَلَّاؕ-بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَﭤ
(53) Never! In fact they do not fear the Hereafter.
(53) ہرگز نہیں بلکہ ان کو آخرت کا ڈر نہیں
(54)كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌ۠ٝ
(54) Yes indeed, this is an advice.
(54) ہاں ہاں بیشک وہ نصیحت ہے،
(55)فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗﭤ
(55) So whoever wills may heed advice from it.
(55) تو جو چاہے اس سے نصیحت لے،
(56)وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُؕ-هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠ٝ
(56) And what advice will they heed, except if Allah wills? Only He deserves to be feared, and His only is the greatness of forgiving.
(56) اور وہ کیا نصیحت مانیں مگر جب اللہ چاہے، وہی ہے ڈرنے کے لائق اور اسی کی شان ہے مغفرت فرمانا،
ثلاثة2ع56
Ayat:40سورة القيامة (مکی)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِPara: 29Ruku: 2
(1)لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ
(1) I swear by the Day of Resurrection.
(1) روزِ قیامت کی قسم! یاد فرماتا ہوں،
(2)وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ
(2) And by oath of the soul that reproaches itself.
(2) اور اس جان کی قسم! جو اپنے اوپر ملامت کرے
(3)اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗﭤ
(3) Does man assume that We will never assemble his bones?
(3) کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہ فرمائیں گے،
(4)بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ
(4) Surely yes, why not? We can properly make all his phalanxes.
(4) کیوں نہیں ہم قادر ہیں کہ اس کے پور ٹھیک بنادیں
(5)بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ
(5) In fact man wishes to commit evil in front of Him!
(5) بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ اس کی نگاہ کے سامنے بدی کرے
(6)یَسْــٴَـلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِﭤ
(6) He asks, “When will be the Day of Resurrection?”
(6) پوچھتا ہے قیامت کا دن کب ہوگا،
(7)فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ
(7) So when the eyes will be blinded by light.
(7) پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی
(8)وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ
(8) And the moon will be eclipsed.
(8) اور چاند کہے گا
(9)وَ جُمِـعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ
(9) And the sun and the moon will be united.
(9) اور سورج اور چاند ملادیے جائیں گے
(10)یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ
(10) On that day man will cry out, “Where shall I flee?”
(10) اس دن آدمی کہے گا کدھر بھاگ کر جاؤں
(11)كَلَّا لَا وَزَرَﭤ
(11) Never! There is no refuge!
(11) ہرگز نہیں کوئی پناہ نہیں،
(12)اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَىٕذِ ﹰالْمُسْتَقَرُّﭤ
(12) On that day, the station is only towards your Lord.
(12) اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے
(13)یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَﭤ
(13) On that day, man will be informed of all what he sent ahead and left behind.
(13) اس دن آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا جتادیا جائے گا
(14)بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ
(14) In fact, man himself is keeping an eye on his state of affairs!
(14) بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھتا ہے،
(15)وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗﭤ
(15) And even if he presents all the excuses he has, none will be listened to.
(15) اور اگر اس کے پاس جتنے بہانے ہوں سب لا ڈالے،
(16)لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖﭤ
(16) O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), do not cause your tongue to move along with the Qur’an in order to learn it faster.
(16) جب بھی نہ سنا جائے گا تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو
(17)اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗﭕ
(17) Indeed assembling the Qur’an and reading it are upon Us.
(17) بیشک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے،
(18)فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِـعْ قُرْاٰنَهٗۚ
(18) So when We have read it, you should thereupon follow what is read.
(18) تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو
(19)ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗﭤ
(19) Then indeed, to explain its details to you is upon Us.
(19) پھر بیشک اس کی باریکیوں کا تم پر ظاہر فرمانا ہمارے ذمہ ہے،
(20)كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ
(20) None except you, O disbelievers – you love what you have, the fleeting one.
(20) کوئی نہیں بلکہ اے کافرو! تم پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز دوست رکھتے ہو
(21)وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَﭤ
(21) And you have forsaken the Hereafter.
(21) اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو،
(22)وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ
(22) On that day, some faces will shine with freshness.
(22) کچھ منہ اس دن تر و تازہ ہوں گے
(23)اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ
(23) Looking toward their Lord.
(23) اپنے رب کا دیکھتے
(24)وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍۭ بَاسِرَةٌۙ
(24) And on that day some faces will be ghastly.
(24) اور کچھ منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے
(25)تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌﭤ
(25) Knowing that they will be subjected to a torment that breaks the backs.
(25) سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ وہ کی جائے گی جو کمر کو توڑ دے
(26)كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ
(26) Yes indeed, when the soul will reach up to the throat.
(26) ہاں ہاں جب جان گلے کو پہنچ جائے گی
(27)وَ قِیْلَ مَنْٚ-رَاقٍۙ
(27) And they will say, “Is there any one – any magician?”
(27) اور کہیں گے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرے
(28)وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ
(28) And he will realise that this is the parting.
(28) سمجھ لے گا کہ یہ جدائی کی گھڑی ہے
(29)وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ
(29) And one shin will curl up with the other shin.
(29) اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی
(30)اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَىٕذِ-ﹰالْمَسَاقُؕ۠
(30) On that day, the herding will be only towards your Lord.
(30) اس دن تیرے رب ہی کی طرف ہانکنا ہے
1ع30
(31)فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ
(31) Neither did he believe it to be true, nor did he offer the prayer.
(31) اس نے نہ تو سچ مانا اور نہ نماز پڑھی،
(32)وَ لٰـكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ
(32) But he denied and turned away.
(32) ہاں جھٹلایا اور منہ پھیرا
(33)ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىﭤ
(33) Then he went back to his home in pride.
(33) پھر اپنے گھر کو اکڑتا چلا
(34)اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ
(34) Your ruin has come close, still closer.
(34) تیری خرابی ا ٓ لگی اب آ لگی،
(35)ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىﭤ
(35) Again your ruin has come close, still closer.
(35) پھر تیری خرابی آ لگی اب آ لگی،
(36)اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىﭤ
(36) Does man assume that he will be let loose?
(36) کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا
(37)اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ
(37) Was he not just a drop of the semen that is discharged?
(37) کیا وہ ایک بوند نہ تھا اس منی کا کہ گرائی جائے
(38)ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ
(38) He then became a clot – so Allah created him, then made him proper.
(38) پھر خون کی پھٹک ہوا تو اس نے پیدا فرمایا پھر ٹھیک بنایا
(39)فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىﭤ
(39) So created from him a pair, the male and female.
(39) تو اس سے دو جوڑ بنائے مرد اور عورت،
(40)اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیِﰯ الْمَوْتٰى۠
(40) So will He, Who has done all this, not be able to revive the dead?
(40) کیا جس نے یہ کچھ کیا وہ مردے نہ جِلا سکے گا،
2ع40
Ayat:31سورة الانسان (مدنی)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِPara: 29Ruku: 2
(1)هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْــٴًـا مَّذْكُوْرًا
(1) Indeed there has been a time for man, when even his name did not exist anywhere.
(1) بیشک آدمی پر ایک وقت وہ گزرا کہ کہیں اس کا نام بھی نہ تھا
(2)اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ﳓ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا
(2) Indeed We have created man from mixed semen; in order to test him – We therefore made him hearing, knowing.
(2) بیشک ہم نے آدمی کو کیا ملی ہوئی منی سے کہ وہ اسے جانچیں تو اسے سنتا دیکھتا کردیا
(3)اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا
(3) We have indeed shown him the way – whether he is grateful or ingrate.
(3) بیشک ہم نے اسے راہ بتائی یا حق مانتا یا ناشکری کرتا
(4)اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاْ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا
(4) We have indeed kept prepared chains, and shackles and a blazing fire for the disbelievers.
(4) بیشک ہم نے کافروں کے لیے تیار کر رکھی ہیں زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی آگ
(5)اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ
(5) Indeed the virtuous will drink from a cup, containing a mixture of Kafoor.
(5) بیشک نیک پئیں گے اس جام میں سے جس کی ملونی کافور ہے وہ کافور کیا ایک چشمہ ہے
(6)عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا
(6) The Kafoor is a spring, from which the chosen bondmen of Allah will drink, causing it to flow wherever they wish inside their palaces.
(6) جس میں سے اللہ کے نہایت خاص بندے پئیں گے اپنے محلوں میں اسے جہاں چاہیں بہا کر لے جائیں گے
(7)یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا
(7) They fulfil their pledges, and fear a day the evil of which is widespread.
(7) اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی پھیلی ہوئی ہے
(8)وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا
(8) And out of His love, they give food to the needy, the orphan and the prisoner.
(8) اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو،
(9)اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا
(9) They say to them, “We give you food, only for the sake of Allah – we do not seek any reward or thanks from you.”
(9) ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتےہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے،
(10)اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا
(10) “Indeed we fear from our Lord a day which is extremely bitter, most severe.”
(10) بیشک ہمیں اپنے رب سے ایک ایسے دن کا ڈر ہے جو بہت ترش نہایت سخت ہے
(11)فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ
(11) So Allah saved them from the evil of that day, and gave them freshness and joy.
(11) تو انہیں اللہ نے اس دن کے شر سے بچالیا اور انہیں تازگی اور شادمانی دی،
(12)وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ
(12) And gave them Paradise and silk clothes, as a reward for their patience.
(12) اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صلہ میں دیے،
(13)مُّتَّكِـٕیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآىٕكِۚ-لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ
(13) Reclining in it, upon thrones; they will not see the hot sunshine in it, nor the bitter cold.
(13) جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے، نہ اس میں دھوپ دیکھیں گے نہ ٹھٹر (سخت سردی)
(14)وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا
(14) And its shade will cover them, and its fruit clusters brought down low for them.
(14) اور اس کے سائے ان پر جھکے ہوں گے اور اس کے گچھے جھکا کر نیچے کردیے گئے ہوں گے
(15)وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَؔارِیْرَاْۙ
(15) Rounds of silver cups and silver beakers, looking like glass, will be presented upon them.
(15) اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہوگا جو شیشے کے مثل ہورہے ہوں گے،
(16)قَوَؔارِیْرَاْ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا
(16) Glass made from silver, which the servers have filled up to the measure.
(16) کیسے شیشے چاندی کے ساقیوں نے انہیں پورے اندازہ پر رکھا ہوگا
(17)وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ
(17) And in Paradise they will be given to drink cups, filled with a mixture of ginger.
(17) اور اس میں وہ جام پلائے جائیں گے جس کی ملونی ادرک ہوگی
(18)عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا
(18) Which is a spring in Paradise called Salsabeel.
(18) وہ ادرک کیا ہے جنت میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہتے ہیں
(19)وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۚ-اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا
(19) Immortal youths shall surround them, waiting upon them; when you see them, you would think they are scattered pearls.
(19) اور ان کے آس پاس خدمت میں پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے جب تو انہیں دیکھے تو انہیں سمجھے کہ موتی ہیں بکھیرے ہوئے
(20)وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا
(20) And when you look towards it, you will see serenity and a great kingdom.
(20) اور جب تو ادھر نظر اٹھائے ایک چین دیکھے اور بڑی سلطنت
(21)عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ٘-وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍۚ-وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا
(21) In it they adorn clothes of fine green silk and gold embroidery; and they are given silver bracelets to wear; and their Lord gave them pure wine to drink.
(21) ان کے بدن پر ہیں کریب کے سبز کپڑے اور قنا ویز کے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے گئے اور انہیں ان کے رب نے ستھری شراب پلائی
(22)اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠
(22) It will be said to them, “This is your reward – indeed your efforts have been appreciated.”
(22) ان سے فرمایا جائے گا یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری محنت ٹھکانے لگی
1ع22
(23)اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ
(23) Indeed We have sent down the Qur’an upon you, in stages.
(23) بیشک ہم نے تم پر قرآن بتدریج اتارا
(24)فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ
(24) Therefore stay patient upon your Lord’s command, and do not listen to any of the sinners or ingrates among them.
(24) تو اپنے رب کے حکم پر صابر رہو اور ان میں کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات نہ سنو
(25)وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاﭕ
(25) And remember the name of your Lord morning and evening.
(25) اور اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو
(26)وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا
(26) And prostrate for Him in a part of the night, and proclaim His purity into the long night.
(26) اور کچھ میں اسے سجدہ کرو اور بڑی رات تک اس کی پاکی بولو
(27)اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا
(27) Indeed these people love what they have, the fleeting one, and have forsaken the immensely important day behind them.
(27) بیشک یہ لوگ پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز رکھتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں
(28)نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْۚ-وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا
(28) It is We Who created them, and strengthened their skeleton; and We can replace them with others like them, whenever We will.
(28) ہم نے انہیں پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے اور ہم جب چاہیں ان جیسے اور بدل دیں
(29)اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌۚ-فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا
(29) This is indeed an advice; so whoever wishes may take the path towards his Lord.
(29) بیشک یہ نصیحت ہے تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ لے
(30)وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ
(30) And what will you wish, except if Allah wills; indeed Allah is All Knowing, Wise.
(30) اور تم کیا چاہو مگر یہ کہ اللہ چاہے بیشک وہ علم و حکمت والا ہے،
(31)یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖؕ-وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠
(31) He admits into His mercy, whomever He wills; and for the unjust He has kept prepared a painful punishment.
(31) اپنی رحمت میں لیتا ہے جسے چاہے اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے
2ع31
Ayat:50سورة المرسلات (مکی)بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِPara: 29Ruku: 2
(1)وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ
(1) By oath of those that are sent, one after the other. (The verses of the Holy Qur’an or the angels or the winds).
(1) قسم ان کی جو بھیجی جاتی ہیں لگاتار
(2)فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ
(2) Then by oath of those that push with a strong gust.
(2) پھر زور سے جھونکا دینے والیاں،
(3)وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ
(3) Then by oath of those that lift and carry.
(3) پھر ابھار کر اٹھانے والیاں
(4)فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ
(4) Then by those that clearly differentiate the right and wrong.
(4) پھر حق ناحق کو خوب جدا کرنے والیاں،
(5)فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ
(5) And then by those that instil Remembrance into the hearts.
(5) پھر ان کی قسم جو ذکر کا لقا کرتی ہیں
(6)عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ
(6) To complete the argument or to warn.
(6) حجت تمام کرنے یا ڈرانے کو،
(7)اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌﭤ
(7) Indeed what you are promised, will surely befall.
(7) بیشک جس بات کا تم وعدہ دیے جاتے ہو ضرور ہونی ہے
(8)فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ
(8) So when the lights of the stars are put out.
(8) پھر جب تارے محو کردیے جائیں،
(9)وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ
(9) And when the sky is split apart.
(9) اور جب آسمان میں رخنے پڑیں،
(10)وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ
(10) And when the mountains are made into dust and blown away.
(10) اور جب پہاڑ غبار کرکے اڑا دیے جا ئیں،
(11)وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْﭤ
(11) And when the time of the Noble Messengers arrives.
(11) اور جب رسولوں کا وقت آئے
(12)لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْﭤ
(12) For which day were they appointed?
(12) کس دن کے لیے ٹھہرائے گئے تھے،
(13)لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ
(13) For the Day of Decision.
(13) روز فیصلہ کے لیے،
(14)وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِﭤ
(14) And what do you know, what the Day of Decision is!
(14) اور تو کیا جانے وہ روز فیصلہ کیا ہے
(15)وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ
(15) Ruin is for the deniers on that day!
(15) جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی
(16)اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَﭤ
(16) Did We not destroy the earlier people?
(16) کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہ فرمایا
(17)ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ
(17) We shall then send the latter after them.
(17) پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے
(18)كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ
(18) This is how We deal with the guilty.
(18) مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں،
(19)وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ
(19) Ruin is for the deniers on that day!
(19) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
(20)اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ
(20) Did We not create you from an abject fluid?
(20) کیا ہم نے تمہیں ایک بے قدر پانی سے پیدا نہ فرمایا
(21)فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ
(21) We then kept it in a safe place.
(21) پھر اسے ایک محفوظ جگہ میں رکھا
(22)اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ
(22) For a known calculated term.
(22) ایک معلوم اندازہ تک
(23)فَقَدَرْنَا ﳓ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ
(23) We then calculated; so how excellently do We control!
(23) پھر ہم نے اندازہ فرمایا، تو ہم کیا ہی اچھے قادر
(24)وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ
(24) Ruin is for the deniers on that day!
(24) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
(25)اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ
(25) Did We not make the earth a storehouse?
(25) کیا ہم نے زمین کو جمع کرنے والی نہ کیا،
(26)اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ
(26) For the living and the dead among you?
(26) تمہارے زندوں اور مردوں کی
(27)وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاﭤ
(27) And We placed high mountains as anchors in it and gave you sweet water to drink.
(27) اور ہم نے اس میں اونچے اونچے لنگر ڈالے اور ہم نے تمہیں خوب میٹھا پانی پلایا
(28)وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ
(28) Ruin is for the deniers on that day!
(28) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی
(29)اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ
(29) “Move towards what you used to deny!”
(29) چلو اس کی طرف جسے جھٹلاتے تھے،
(30)اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ
(30) “Move towards the shadow of the smoke having three branches.”
(30) چلو اس دھوئیں کے سائے کی طرف جس کی تین شاخیں
(31)لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِﭤ
(31) “Which neither gives shade, nor saves from the flame.”
(31) نہ سایہ دے نہ لپٹ سے بچائے
(32)اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ
(32) Indeed hell throws up sparks like huge castles.
(32) بیشک دوزخ چنگاریاں اڑاتی ہے
(33)كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌﭤ
(33) Seeming like yellow camels.
(33) جیسے اونچے محل گویا وہ زرد رنگ کے اونٹ ہیں،
(34)وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ
(34) Ruin is for the deniers on that day!
(34) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
(35)هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ
(35) This is a day in which they will not be able to speak.
(35) یہ دن ہے کہ وہ بول نہ سکیں گے
(36)وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ
(36) Nor will they be given permission to present excuses.
(36) اور نہ انہیں اجازت ملے کہ عذر کریں
(37)وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ
(37) Ruin is for the deniers on that day!
(37) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
(38)هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِۚ-جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ
(38) This is the Day of Decision; We have gathered you and all the earlier men.
(38) یہ ہے فیصلہ کا دن، ہم نے تمہیں جمع کیا اور سب اگلوں کو
(39)فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ
(39) If you now have any conspiracy, carry it out on Me.
(39) اب اگر تمہارا کوئی داؤ ہو تو مجھ پر چل لو
(40)وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠
(40) Ruin is for the deniers on that day!
(40) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
1ع40
(41)اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوْنٍۙ
(41) Indeed the pious are in shade and springs.
(41) بیشک ڈر والے سایوں اور چشموں میں ہیں،
(42)وَّ فَوَاكِهَ مِمَّا یَشْتَهُوْنَﭤ
(42) And among fruits whichever they may desire.
(42) اور میووں میں جو ان کا جی چاہے
(43)كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــٴًـۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ
(43) “Eat and drink with pleasure, the reward of your deeds.”
(43) کھاؤ اور پیو رچتا ہوا اپنے اعمال کا صلہ
(44)اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ
(44) This is how We reward the virtuous.
(44) بیشک نیکوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں،
(45)وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ
(45) Ruin is for the deniers on that day!
(45) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی
(46)كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ
(46) “Eat and enjoy for a while – indeed you are guilty.”
(46) کچھ دن کھالو اور برت لو ضرور تم مجرم ہو
(47)وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ
(47) Ruin is for the deniers on that day!
(47) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
(48)وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا یَرْكَعُوْنَ
(48) And when it is said to them, “Offer the prayer” – they do not!
(48) اور جب ان سے کہا جائے کہ نماز پڑھو تو نہیں پڑھتے،
(49)وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ
(49) Ruin is for the deniers on that day!
(49) اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
(50)فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ۠
(50) So after this, in what matter will they believe?
(50) پھر اس کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے